تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 492
تاریخ احمدیت 492 جلد ۲۰ ہو جائیں تو بہت جلد ان کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرتے اور سچے ہوتے ہوئے جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرتے تھے۔ہمسایوں اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی یہی کیفیت تھی۔ان کے حالات کی باقاعدہ خبر رکھتے۔بیماروں کی تیمار داری اور ان کے علاج کے لئے ہر ممکن طریق سے مدد کرنا ان کا معمول تھا۔خود بھوکے رہنا برداشت کر لیتے مگر دوسرے کی بھوک برداشت نہیں کر سکتے تھے۔یہ جملہ اخلاق و اوصاف اللہ تعالیٰ نے آپ میں ودیعت کئے تھے۔لیکن آپ کو سب سے زیادہ شغف محبت اور عشق دین کی تبلیغ سے تھا۔جب تبلیغی اور تربیتی کام میں مشغول ہوتے تو آپ کو کھانا بھی بھول جاتا اور سونا اور آرام کرنا بھی۔اور جب آپ کو اس بارے میں کہا جاتا تو مسکرا پڑتے اور فرماتے کہ :- کھانا تو پھر بھی کھایا جاسکتا ہے۔مگر تبلیغ کا موقعہ معلوم 66 Λ نہیں پھر میسر آئے یا نہ آئے۔جناب عبدالرحمن صاحب شاکر ( سابق کارکن نظارت اصلاح وارشادر بوہ ) کا بیان ہے خاکسار کے ایک ہم زلف حکیم محمد نذیر صاحب احمدی موضع منگریل ڈاکخانہ صابو وال ضلع شاہ پور۔۔۔جنگ عظیم ثانی میں۔انگریزی فوج کے محکمہ سپلائی میں بھرتی ہوکر بر ما سنگا پور اور جاوا تک گئے تھے۔۴۶ - ۱۹۴۵ء میں وہ تقریباً گیارہ ماہ سنگا پور میں مقیم رہے۔وہاں مکرم محترم مولوی غلام حسین صاحب ایاز مرحوم کے ہمراہ اکثر نشست و برخاست رہی۔۔مکرم حکیم محمد نذیر صاحب نے ۱۹۴۵ء میں راقم الحروف عبدالرحمن شاکر ) کو سنگا پور سے لکھا کہ اگر سنگا پور میں کوئی احمدی مبلغ ہوں تو ان کا ایڈریس بھجواؤ۔میں نے ان کو مولوی غلام حسین صاحب کا پتہ دے دیا۔حکیم صاحب اپنی فوج کے ہمراہ کرنجی کیمپ میں جو سنگا پور سے گیارہ میل دور تھا مقیم تھے۔میرا خط لے کر نمبر 1 اون روڈ پہنچے۔مولوی صاحب کو میرا