تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 489 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 489

تاریخ احمدیت 489 جلد ۲۰ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جرات اور حق گوئی سب احمدیت کی برکت اور تقویٰ کا ثمرہ تھا۔56 -۴ مجاہد سنگا پور و بور نیومولانا غلام حسین صاحب ایاز ( وفات ۱۷، ۱۸ / اکتوبر ۱۹۵۹ء بمقام لابورن شمالی بور نیو ) تحریک جدید کے ابتدائی مجاہدین میں سے تھے۔۶ رمئی ۱۹۳۵ء کو پہلی بار قادیان سے سنگا پور تشریف لے گئے جہاں مسلسل ۱۶ سال تک شدید مخالفت کے باوجود پیغام احمدیت پہنچانے میں دیوانہ وار مصروف رہے اور ایک مخلص جماعت قائم کر دی۔۲۴ /اکتوبر ۱۹۵۰ء کو واپس ربوہ تشریف لائے اور قریباً چھ سال تک پاکستان میں مختلف دینی خدمات بجا لانے کے بعد ۱/۸ کتوبر ۱۹۵۶ء کو دوبارہ سنگا پور بھجوائے گئے۔ازاں بعد بور نیو میں متعین ہوئے اور میدانِ جہاد میں ہی انتقال کیا۔مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مدیر ” الفرقان“ نے آپ کے وصال پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا :- دو گزشتہ ماہ علاقہ بورنیو میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے ہوئے ہمارے جواں ہمت اور سراپا اخلاص و ایثار و بے نفس جناب مولانا غلام حسین صاحب ایاز فاضل نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی اور اپنے رب کی آواز پر خندہ پیشانی سے لبیک کہتے ہوئے اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ نے پوری جوانی پورے جوش کے ساتھ دین کی خدمت میں صرف کی ہے اور اس کا بیشتر حصہ ہندوستان و پاکستان سے باہر کے علاقوں میں اعلائے کلمہ حق میں گزارا ہے۔آپ کی روحانی تاثیرات کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کے ذریعہ سے متعدد مخلص جماعتیں سنگا پور اور بور نیو وغیرہ علاقوں میں پیدا ہوئیں۔مولانا مرحوم ان شب بیدار مجاہدین میں سے ایک تھے جو یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تمام قدرتیں حاصل ہیں اور وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور درحقیقت ایسے لوگوں کی مساعی کے بارآور ہونے کا بڑا ذریعہ ان کی یہی پر سوز دعائیں ہوتی ہیں۔