تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 488 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 488

تاریخ احمدیت 488 کے دوست رات کو بھی ہمارے گھر میں ہی قیام فرماتے تھے۔اس مناظرے کا مختصر سا ذکر تاریخ احمدیت میں بھی محفوظ ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے والوں کی کایا ہی پلٹ جاتی ہے اور ان کے دین و دنیا نکھر اور سنور جاتے ہیں۔ہمارے والد محترم فرماتے تھے کہ ہم جب کبھی ٹرین یا بس میں سفر کر رہے ہوتے تھے تو ہم اعلیٰ اخلاق اور اطوار کی بنا پر پہچان لیتے تھے کہ اس ڈبے یا بس میں فلاں دوست بھی احمدی ہیں اور پھر بڑے تپاک اور اخلاص سے ایک دوسرے کو ملتے اور باتیں کرتے تھے۔یہاں پر خاکسار کو یہ خوبصورت مصرع یاد آ رہا ہے: ع که قدرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی جیسا کہ پہلے تحریر کیا گیا ہے ڈلوال میں کچھ ہند و گھرانے بھی سکونت پذیر تھے جو نقل آبادی کے موقع پر ڈلوال چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے۔اس فساد کے زمانہ میں اس عبوری دور میں دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں انتظامیہ کی عدم موجودگی کے باعث ڈلوال کے کئی لوگوں نے ہندوؤں کی متروکہ املاک پر قبضہ کر لیا۔ہمارے والد صاحب کے ایک قریبی رشتہ دار نے اپنے پڑوس میں واقع ایک ہندو کی زمین اپنے گھر کے ساتھ ملا لی۔کچھ عرصہ کے بعد جب علاقے کے حکام امن و امان قائم کرنے اور ناجائز قبضہ کی تحقیق کرنے ڈلوال پہنچے تو انہوں نے ہمارے والد صاحب کے ان قریبی رشتہ دار کے بیان کی سچائی کو پر کھنے کے لئے کہا کہ ڈلوال کی قابل اعتماد اور تعلیم یافتہ شخصیت راجہ فضل داد خان جو گواہی دیں گے ہم اسے درست تسلیم کر لیں گے اور اس کے مطابق فیصلہ صادر کریں گے۔اس پر والد صاحب نے صاف صاف اور برملا بیان کیا کہ یہ زمین ہندوؤں کی ہے۔جو ان کے عزیز نے اپنے قبضے میں لے لی ہے چنانچہ سرکاری فیصلہ ان صاحب کے خلاف گیا۔بعد میں والد صاحب کے وہ عزیز اور ان کے اہل خانہ ایک لمبے عرصہ تک اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے رہے کہ والد صاحب نے اپنے قریبی رشتہ دار کے خلاف بیان دے کر انہیں نقصان اور ندامت سے دوچار کیا ہے۔اس پر ہمارے والد محترم یہی فرماتے تھے جو حق بات تھی میں نے وہی کہی ہے۔جلد ۲۰