تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 459
تاریخ احمدیت 459 تھا مگر کرنل کے پاس بعض مواقع پر فائل متعلقہ کی بابت تسلی بخش معلومات مہیا کرنے کے قابل نہ پا کر وہ خان صاحب کو کرنل کے پاس جواب دہی کے لئے بھیجنے لگا تب ایک موقعہ ایسا آیا کہ کرنل کسی ضروری اور اہم خط کا مسودہ تیار کر رہا تھا۔اس میں اس نے کوئی ایسا انگریزی لفظ استعمال کیا جس کا متبادل بہتر لفظ خان صاحب نے تجویز کر دیا۔کرنل فوراً چونک پڑا اور اس نے تسلیم کیا کہ واقعی مجوزہ لفظ ہی اس فقرہ کے لئے موزوں ترین تھا اور مسودہ خان صاحب کے حوالے مکمل کرنے کے لئے کر دیا۔اس واقعہ سے خان صاحب کی انگریزی قابلیت کا کرنل پر ایسا اثر ہوا کہ پھر تو خان صاحب پورے دفتر پر چھا گئے۔تبادلے پر راولپنڈی شہر میں آپ کے اعزاز میں جو شاندار الوداعی پارٹی ہوئی اور اس میں ان کی خدمات کے ضمن میں تقاریر ہوئیں جن کے جواب میں آپ نے جو تقریر انگریزی زبان میں کی وہ تقریر اس قدر پر اثر اور عمدہ تھی کہ تمام حاضرین (جن میں انگریز بھی شامل تھے ) آپ کی انگریزی قابلیت کا لوہا مان گئے۔قیام انگلستان کے دوران آپ لندن روٹری کلب کے ممبر بن گئے۔انگلستان کے بااثر طبقہ ممبران پارلیمنٹ لارڈز اور پریس سے ذاتی تعلقات پیدا کئے۔چنانچہ تینوں گول میز کانفرنسوں کے دوران آپ بطور امام بیت الفضل لندن بہت فعال تھے۔سر آغا خان وفد کے لیڈر ہوتے تھے اور ممبران میں بیرسٹر محمد علی جناح ( قائد اعظم ) ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال اور حضرت سر چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل ہوتے۔ایک دفعہ مشہور ادیب اور مؤرخ ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی نے مجھے بتایا کہ مسلم وفد کے ترجمان سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ہوا کرتے تھے جو پریس کو بریفنگ کے لئے بیان جاری کرتے تھے۔ان باتوں کے بعد اب میں حضرت خان صاحب کی حس مزاح کے متعلق کچھ تحریر کروں گا۔میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں خان صاحب کے نام آئے ہوئے خطوں کے جواب تحریر کرنے کے لئے جایا کرتا تھا۔بعض اوقات وہ مجھے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے لئے مضمون بھی لکھوایا کرتے تھے اور جلد ۲۰