تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 456
تاریخ احمدیت 456 حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد حضرت خان صاحب مرحوم کو داعیان خلافت ثانیہ میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔اخبار الفضل میں شائع شدہ ایک اعلامیہ کے مطابق ان داعیان کی طرف سے احباب جماعت کو حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کی تحریک کی گئی تھی۔( بحوالہ اخبار الفضل قادیان ۱۸ / مارچ ۱۹۱۴ء ) سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنی خلافت کے زمانے سے قبل ایک رویا کی بنا پر حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے فروری ۱۹۱۱ء میں ایک انجمن بنائی جس کا نام ”انصار اللہ رکھا گیا۔حضرت خان صاحب کو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بابرکت تحریک میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔فہرست ممبران میں آپ کا نام چوتھے نمبر پر درج ہے۔قبولیت احمدیت ( اخبار بدر قادیان ۲۳ فروری ۱۹۱۱ء) انجمن احمد یہ فیروز پور نے ۳۱ / جولائی اور یکم اگست ۱۹۰۹ء کو دوروز کے لئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ کیا جس کی صدارت کے فرائض خان صاحب منشی فرزند علی صاحب نے سرانجام دیئے۔اس جلسہ میں آپ نے اعلان کیا کہ:- میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی موعود جان کر جماعت احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں۔“ اس کے بعد آپ نے صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر ایک تقریر کی جس کے دوران فرمایا : - میں نے ایک دفعہ شیخ نجم الدین صاحب افسر مال فیروز پور سے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو شیخ صاحب نے فرمایا کہ ہمارے خاندانی پرانے تعلقات مرزا صاحب سے ہیں اور ہمیں ان کے حالات سے بخوبی آگا ہی ہے۔اگر چہ مرزا صاحب کا دعویٰ میری سمجھ میں نہیں آیا تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ راستباز ہیں اور کبھی جھوٹ بولنے والے یا افتراء کرنے والے نہیں۔اس شہادت نے میرے دل پر بہت اثر کیا کیونکہ جلد ۲۰