تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 457
تاریخ احمدیت 457 یہ شہادت ایک غیر احمدی کی طرف سے ہے۔‘ ( بدر۱۲ /اگست ۱۹۰۹ء صفحه ۲ ) شیخ نجم الدین صاحب اس جلسہ میں اس تقریر کو سن رہے تھے۔انہوں نے جلسہ کے بعد اقرار کیا کہ جو کچھ خان صاحب نے ان کے متعلق کہا ہے یہ بالکل درست ہے۔بے شک میری رائے اور علم ہے۔“ ( بدر ۱۲ را گست ۱۹۰۹ء) بیعت کے بعد خان صاحب کے قبل از احمدیت کے زمانہ کے دوست مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے فیروز پور آ کر خان صاحب کے مکان کے ساتھ ملحقہ مکان کے وسیع صحن میں ایک لیکچر دیا اور حیات مسیح کے حق میں دلائل دیئے۔اس کے جواب میں جناب خان صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں بالوضاحت مولوی صاحب کے بیانات کا رد کیا۔جب حضرت خلیفہ امسیح الاول سے نام کے متعلق دریافت کیا گیا تو حضور نے فرمایا یہ نام رکھو’ فرزند علی بجواب ابرا ہیم“۔( بدر یکم فروری ۱۹۱۲ء) حضرت خان صاحب نے ۳ / جون ۱۹۲۲ء کو مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب سے فیروز پور میں ایک کامیاب مناظرہ کیا جس کی پوری تفصیل اخبار الفضل قادیان ۱۰ جولائی ۱۹۲۲ء میں شائع ہوئی ہے۔۔دوران ملازمت آپ نے رخصت لے کر شدھی تحریک میں دعوت الی اللہ کا کام کیا اور آگرہ کے علاقہ میں بحیثیت نائب امیر المجاہدین خدمات سرانجام دیں۔الفضل قادیان ۵ فروری ۱۹۲۴ء) ۱۹۱۳ء میں آپ کو اپنے والد حضرت حکیم میاں عمرالدین صاحب رفیق حضرت مسیح موعود ) کے ہمراہ زیارت مدینہ منورہ و حج کعبہ کی سعادت نصیب ہوئی۔الفضل قادیان ۷ دسمبر ۱۹۱۳ء) جب حضرت خلیفہ ثانی نے ۱۹۱۹ء میں جماعت احمدیہ میں امارت کا نظام قائم کیا تو سب سے پہلے آپ کو امیر جماعت احمد یہ فیروز پور کے عہدہ جلد ۲۰