تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 453 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 453

تاریخ احمدیت 453 نوجوانوں کو مثل حضرت چوہدری احمد جان صاحب اور حاجی سراج الحق صاحب ان سب کو سلسلہ کی خدمت کرنے کا جذبہ اور فدائیت حضرت خان صاحب کے نمونہ سے ہی ملی۔مالی قربانی میں حصہ لینے والے بھی یہی لوگ تھے۔غالباً سلسلہ کے اداروں کی طرح آرسنل میں کام کرنے والے جو شیلے اور مخلص نوجوانوں کا چندہ بھی ماہانہ اور تحریکات سے متعلق باقاعدگی سے کتنا اور سلسلہ کے خزانہ میں داخل کیا جاتا۔نمازوں میں باقاعدگی اور سلسلہ کے امور میں مثالی دلچسپی اپنے ماتحت عملہ میں رائج کرنا حضرت خاں صاحب کا امتیازی وصف تھا۔یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے جس جماعت میں امارت کا نظام جاری ہوا وہ فیروز پور کی جماعت ہی تھی۔لاہور کے امیر کا تقرر بھی بعد میں ہوا۔جب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب امیر بنے (یہاں تک کی میری معلومات کا ماخذ و منبع سلسلہ کی تاریخ کے اوراق ہیں ) میں نے خود حضرت خاں صاحب کو اس زمانہ میں دیکھا جب آپ لندن میں سلسلہ کے مربی کے طور پر خدمت کرنے کے بعد قادیان میں واپس تشریف لائے۔حضرت خاں صاحب (اور یہ خاں صاحب سرکاری خطاب تھا) ایک وجیہہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔بارعب، اپنی وجاہت اور حیثیت کو ہر مجلس میں قائم رکھنے والے بزرگ تھے لیکن اپنے آقا اور مقتدا کے سامنے لاشی۔ریٹائرمنٹ کے بعد انگلستان میں جماعت احمدیہ کی بحیثیت مربی ہی نہیں قوم اور ملک کی سیاسی میدان میں بھی ایک فعال اور معزز کارکن کی حیثیت سے خدمت کی۔دوستوں نے مولانا غلام رسول مہر کی وہ تحریر اخبارات میں دیکھی ہوگی جس میں انہوں نے لندن گول میز کانفرنس کے سلسلہ میں ان کی تگ و دو اور مساعی جمیلہ کا ذکر کیا ہے۔انگریزی زبان پر خاصا عبور تھا۔قادیان میں مجلس ارشاد کے اجلاس میں (جو حضور کی صدارت میں ہوا کرتے تھے اور جس کا خاکسار سیکرٹری تھا) اور مباحثوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔بطور ناظر امور عامہ و خارجہ سلسلہ کے دفاتر کی کماحقہ حفاظت کی اور مال کے ناظر کے طور پر نمایاں کام کیا۔ان کے آنے سے پہلے صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت اس قدر پتلی تھی کہ کارکنوں کو کئی کئی ماہ تنخواہ نہ ملتی تھی لیکن جلد ۲۰