تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 452
تاریخ احمدیت 452 خدمات کا دوبارہ تذکرہ کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہئے۔حضرت فضل عمر کو جیسے وہ خود عظیم تھے ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے بلند و بالا قابلیت اور وقار والے خدام عطا فرمائے تھے۔حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب ( والد ماجد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب) حضور کے پہلے ناظر اعلیٰ بعد میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اے، حضرت چوہدری فتح محمد صاحب، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت مولوی عبدالرحیم در د صاحب، حضرت مولوی عبد المغنی صاحب، حضرت میر محمد اسحق صاحب ان ہی خاص بزرگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے آقا کے ہمہ وقتی خادم بن کر اپنی فدائیت کا ثبوت دیا اور حضور کے عزائم کی تعمیل میں اپنی عاقبت سنوار لی اور سلسلہ کی تاریخ میں رہتی دنیا تک نام پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرماتا رہے۔جہاں تک میں جانتا ہوں خان صاحب حضرت مولوی فرزند علی صاحب حضرت امام جماعت کے اولین جاں نثاروں میں سے تھے۔انہیں خود حضور سے قرآن شریف پڑھنے کا فخر حاصل ہے۔حضرت فضل عمر کی صداقت کا ایک نا قابل تردید ثبوت یہ بھی ہے کہ حضور خود تو اصطلاحی معنوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھے۔اعلیٰ کا لفظ بھی میں حضور کے منصب کی نسبت سے کہہ رہا ہوں ورنہ حضور تو میٹرک بھی پاس نہ کر سکے تھے بلکہ جیسا کہ حضور نے خود بیان فرمایا تھا وہ تو مڈل کی کلاسز میں بھی فیل ہوتے رہے اور مدرسہ والے (جو جماعت کا اپنا ادارہ تھا) لحاظاً انہیں اوپر کی جماعت میں چڑھا دیتے تھے۔۱۹۱۴ء میں اختلاف ہونے پر سلسلہ کے تقریباً تمام مغربی تعلیم کے لحاظ سے اعلی تعلیم یافتہ اصحاب قادیان چھوڑ کر لاہور چلے گئے۔جو دوست حضور کے ساتھ منسلک رہے ان میں خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو خاص مقام حاصل تھا۔انصار اللہ میں بھی ( جو تنظیم چند سال پہلے ہی عمل میں آئی تھی ) ان کا عمل دخل تھا۔آپ ان دنوں یا چند سال بعد فیروز پور آرسنل میں ہیڈ کلرک تھے۔ہیڈ کلرک جو غالباً اختیارات اور عہدہ کے لحاظ سے آج کل کے اعلیٰ ترین پر سائل آفیسر کے برابر ہوتا تھا۔ان کے ماتحت کام کرنے والے احمدی 66 جلد ۲۰