تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 449 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 449

تاریخ احمدیت 449 جلد ۲۰ ور نہ مناظرہ ختم کر دیں۔یہ مناظرہ مرزا ناصر علی صاحب کی کوٹھی میں ہوا۔آپ کا دوسرا مناظرہ اس کے بعد مشہور اہلحدیث عالم مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے فیروز پور میں ہی ۳ جون ۱۹۲۲ء کو ہوا۔اس مناظرہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے جناب پیرا کبر علی صاحب بی اے ممبر لیجسلیٹو کونسل نے پریذیڈنٹ کے فرائض انجام دیئے۔جس میں فریقین کے پچیس پچیس افراد شامل ہوئے۔سامعین کے لئے یہ شرط تھی کہ وہ کاپی پنسل پر فریقین کے دلائل نوٹ کرتے جائیں تا کہ موازنہ کرنے میں آسانی رہے۔اس مناظرہ میں بھی احمدیت کو شاندار فتح ہوئی۔چنانچہ مناظرہ کے بعد بابو محمد امیر صاحب مرحوم نے کہا کہ آج ہمیں ایسی فتح حاصل ہوئی ہے کہ شکرانہ کا سجدہ ادا کرنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت اقدس میں جب اس مناظرہ کی تفصیلات پہنچیں تو حضور بہت خوش ہوئے اور اس بات پر خاص طور پر اظہار خوشنودی فرمایا کہ کسی مبلغ کو بلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور آپ نے خود ہی یہ معرکہ سر کیا ام ہے۔۱۹۲۸ء میں آپ سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے اور بقیہ زندگی سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف کر دی۔حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا انتخاب بطور امام بیت فضل لنڈن فرمایا اور آپ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۳ء تک انگلستان میں نہایت جانفشانی سے اعلائے کلمۃ الحق میں مصروف رہے۔یکم مئی ۱۹۳۳ء سے اکتوبر ۱۹۳۶ء تک ناظر امور عامہ کے فرائض بجا لاتے رہے۔اس عرصہ میں احرار ایجی ٹیشن کی وجہ سے مفوضہ ذمہ داریاں بہت مشکل پیچیدہ اور نازک تھیں۔آپ کو حضرت مصلح موعود کی منشاء مبارک کے مطابق بالا افسروں سے ملاقاتیں کرنے اور سلسلہ کی مؤثر نمائندگی کرنے کی خصوصی توفیق ملی ازاں بعد آپ نے ناظر بیت المال کا عہدہ سنبھالا اور جماعت کے مالی نظام کو کرنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دیں۔۱۲ مئی ۱۹۴۶ء کو آپ نے حضرت مصلح موعود کے حکم سے مستقل طور پر نظارت علیا کا چارج لیا۔ان دنوں حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ناظر اعلیٰ تھے اور پنجاب اسمبلی کے ممبر بن گئے تھے۔۱۳ مئی ۱۹۴۶ء کو آپ پر فالج کا حملہ ہوا۔آپ نے رخصت کی درخواست دی۔آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ نے ایک ماہ کی رخصت منظور کی۔جب کاغذات حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش ہوئے تو حضور نے ارشاد فرمایا چھٹی لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب خاں صاحب پر یہ حملہ ہوا ہے اس وقت وہ ڈیوٹی پر تھے لہذا مکمل صحت ہونے تک پورا الاؤنس ملتا رہے۔قیام پاکستان کے بعد آپ پہلے لاہور پھر پشاور چلے گئے۔بعد ازاں دسمبر ۱۹۴۹ء میں حضور کے ارشاد مبارک پر