تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 450
تاریخ احمدیت 450 جلد ۲۰ مستقل طور پر ربوہ میں آگئے اور بیماری کی حالت میں ہی دوبارہ نظارت بیت المال کا چارج سنبھال لیا اور قریباً چار سال تک یہ ذمہ داری نہایت محنت و خلوص سے بجالاتے رہے۔اسی دوران ۲۶ نومبر ۱۹۵۶ء کو آپ پر دوبارہ فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔مگر دینی خدمت کے جوش ولولہ اور جذبہ میں کوئی کمی نہیں آئی۔یہاں تک کہ مالک حقیقی کا آخری بلاوا آ گیا۔لکھا کہ : - ۴۲ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت خان صاحب مرحوم کے انتقال پر میں لاہور میں تھا کہ مجھے عزیز شیخ مبارک احمد صاحب کی تار سے حضرت خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی وفات کی اطلاع ملی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔خان صاحب موصوف گو صحابی نہیں تھے مگر خوبیوں کے مالک اور اول درجہ کے مخلصین میں سے تھے اور تنظیم کا غیر معمولی مادہ رکھتے تھے۔چنانچہ وہ قادیان آنے سے قبل فیروز پور اور راولپنڈی کی جماعتوں میں بہت کامیاب امیر جماعت رہے۔پنشن پانے کے معاً بعد انہوں نے اپنے آپ کو خدمت سلسلہ کے لئے وقف کر دیاا ور پھر آخر تک یعنی جب بیماری سے بالکل مجبور ہو گئے سلسلہ کی مخلصانہ خدمت میں مصروف رہے۔شروع میں خان صاحب نے لندن میں احمدیت کے کامیاب مبلغ کی حیثیت میں کام کیا اور اس کے بعد واپسی پر مرکز سلسلہ میں ایک کامیاب ناظر رہے۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وفات سے چند روز قبل بھی جب کہ ان کی عمر پچاسی سال سے تجاوز کر چکی تھی ان کی خواہش تھی کہ خدا مجھے صحت دے تو پھر خدمت سلسلہ کی سعادت پاؤں۔خان صاحب مرحوم نمازوں کے بہت پابند اور دعاؤں اور وظائف میں خاص شغف رکھتے تھے۔ایسے بزرگ جماعت کے لئے بہت بابرکت وجود ہوتے ہیں۔اس لئے نماز جنازہ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اللهم لا تحرمنا اجرہ۔خان صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر بدرالدین صاحب حال بور مینو بھی نہایت مخلص اور فدائی نوجوانوں میں سے ہیں۔اسی طرح ان کے دو دوسرے صاحبزادے محبوب عالم صاحب خالد ایم اے اور شیخ مبارک احمد صاحب بی اے