تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 445
تاریخ احمدیت 445 جلد ۲۰ اولاد مزہ آتا تھا۔بڑے سے بڑے آدمی کو واضح رنگ میں۔۔۔۔۔۔۔احمدیت کا پیغام پہنچاتے تھے۔بسا اوقات گاؤں کے لوگوں کو چائے وغیرہ پر بلا کر بھی تبلیغ کرتے تھے۔اس بات کو ہمیشہ خاص فخر سے ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان ریلوے سٹیشن پر سب سے پہلا سٹیشن ماسٹر میں مقرر ہوا تھا۔حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔سالہا سال تک احمد نگر میں اکٹھے رہنے کے نتیجہ میں حضرت بابو صاحب سے پوری واقفیت کی بناء پر میں یہ کہتا ہوں کہ حضرت بابو صاحب فقیر علی ایک نهایت بزرگ اور صالح انسان تھے۔ا۔میاں بشیر احمد علی صاحب ( سابق صدر جماعت ڈیرہ دون۔امیر جماعت احمد یہ ضلع جھنگ) ۲ - مولوی نذیر احمد علی صاحب (رئيس التبليغ مغربی افریقہ ) ۳- محمود احمد (بچپن میں فوت ہو گئے ) ۴۔شریف احمد ) بچپن میں فوت ہو گئے ) ۵ - عبد اللہ ( بچپن میں فوت ہو گئے ) - حلیمہ بی بی صاحبہ (اہلیه با بو غلام رسول صاحب لاہوری ریلوے کلرک ) ان عشاق احمدیت کے علاوہ اس سال درج ذیل بزرگ خواتین بھی وفات پا گئیں۔ان سب کو حضرت اقدس مسیح موعود کے مبارک زمانہ میں بیعت کرنے اور پوری عمر کمال ۳۴ وفاداری ، خلوص اور استقلال کے ساتھ اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی سعادت نصیب ہوئی۔۱- زینب بی بی صاحبہ ( والدہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری مجاہد انگلستان، سیرالیون، لائبیریا، سنگاپور، مجی) نہایت پارسا متوکل علی اللہ اور ( دین حق ) و احمدیت کی خاطر قربانیاں کرنے والی خاتون تھیں۔نماز پنجگانہ کو التزام سے ادا کرنے کے علاوہ تہجد اور اشراق کی بھی پابند اور مستجاب الدعوات تھیں۔خاندان حضرت مسیح موعودؓ سے خصوصاً اور بزرگانِ سلسلہ- عموماً بہت عقیدت تھی۔( وفات ۲۲،۲۱ را پریل ۱۹۵۹ء) -۲- مریم بی بی صاحبہ ( مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج احمد یہ مشن غانا کی بڑی ہمشیرہ) اصل وطن سیالکوٹ تھا۔۱۹۲۱ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئیں۔بہت نیک دل غریب پرور اور دعا گو خاتون تھیں۔( وفات ۲۷ جولائی ۱۹۵۹ء) ۳۶