تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 441 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 441

تاریخ احمدیت 441 جلد ۲۰ وجہ سے بعد میں پہنچ سکی۔اس خوشخبری پر ہیڈ ماسٹر کے کئی اقارب آپ کے ہاں پہنچے اور دس روز تک قیام پذیر رہے۔۲ - والد صاحب ریلوے قوانین کی نہ صرف خود سختی سے پابندی کرتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی پابندی کراتے تھے۔قلمی جو گھر سے سٹیشن پر آپ کا کھانا لاتا آپ اس کا معاوضہ بھی ادا کرتے تھے۔ہندوؤں کی طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی۔چنانچہ ۱۹۱۹ء کے مارشل لاء کے ایام میں جس کا آغاز ہی امرتسر سے ہوا تھا، آپ اپنے فرائض کو ادا کرتے رہے اور ریل گاڑیوں کی آمد ورفت سنبھالے رکھی۔لیکن ان حالات کی وجہ سے اور آپ کی تبلیغی مساعی کے باعث ہندوؤں کی طرف سے جو تمام محکموں پر چھائے ہوئے تھے، آپ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی رہی اور زیادہ ترقی نہ ہو سکی۔البتہ گرفت میں لینے کی مساعی ان مخالفین کی ناکام رہتی تھی۔۳ - آپ سٹیشن گور دست ستلانی پر تبدیل ہوئے تو پہلے ہی روز باوجود نحیف ہونے کے آپ نے چار موٹے تازے سکھ جائوں کو روک لیا اور کہا تم نے بغیر ٹکٹ سفر کیا ہے۔رقم ادا کرو۔انہوں نے کہا ہم نے آج تک ٹکٹ نہیں لیا۔آپ نے کہا کہ میں سرکاری ملازم ہوں۔آپ سے ٹکٹ لوں گا یا رقم۔اور باتیں کرتے ہوئے انہیں اپنے کمرے میں لے آئے اور تار کے ذریعہ اٹاری اسٹیشن پر اطلاع دی۔چنانچہ دو میل کا فاصلہ طے کر کے پولیس پہنچ گئی۔آپ نے میمو بنا کر پولیس کے سپرد کر دیا۔ان لوگوں نے اس یقینی خطرہ کے پیش نظر کہ اب پولیس ہتھکڑی لگا کر لے جائے گی رقم ادا کر دی۔بابو صاحب کو دھمکی دے کر کہا یہ پہلا موقع ہے کہ ہم سے رقم وصول کی گئی ہے۔ہم آج رات ہی آپ سے یہ رقم وصول کر لیں گے۔بابو صاحب نے کہا باپ کے بیٹے ہو تو کوتا ہی ہرگز نہ کرنا۔انہوں نے حیران ہو کر ایک قلی سے کہا کہ یہ مولوی کیا مصیبت آ گیا ہے۔ہم آج ہی اس کا گھر لوٹ لیں گے۔اس نے کہا کہ ان کے گھر میں ٹوٹی ہوئی صف ، مٹی کا لوٹا مٹی کی کنالی اور مٹی ہی کی ہنڈیا ہے۔دھات کا کوئی برتن نہیں۔اس کی بیوی کے پاس پیتل تک کا زیور نہیں۔البتہ اگر انہیں زدو کوب کرنے کا ارادہ کیا تو یہ جان لو کہ وہ جماعت احمد یہ کے فرد ہیں۔ان کی جماعتی تنظیم ان کی مدد کرے گی۔اور آپ کا سارا گاؤں اس ظلم کی پاداش میں تباہ ہو جائے گا۔چنانچہ آپ کئی سال تک اس سٹیشن پر متعین رہے اور آپ کا بال تک بیکا نہ ہوا۔اور کبھی کسی کو وہاں بغیر ٹکٹ اترنے کی جرات نہ ہوئی۔۴ - آپ کوٹ لکھپت کے جب سٹیشن ماسٹر تھے تو ایک ہند وسٹال والے کی شکایت پر کہ اس کے گھڑے ایک مسلمان نے بھرشٹ کر دیئے ہیں، آپ نے اس مسلمان سے قیمت دلا دی۔