تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 440 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 440

تاریخ احمدیت 440 جلد ۲۰ کن ہوگی۔چنانچہ اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کھولا اور تصرف الہی سے یہ آیت سامنے آئی "ما هذا بشراء ان هذا الا ملك كريم " (يوسف : ٣٢) یہ آیت دیکھتے ہی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور اپنی اور اپنی اہلیہ کی طرف سے بیعت کا خط بھیج دیا۔اور تمام عملہ ریلوے میں بھی قبول احمدیت کا اعلان کر دیا۔چند دن بعد جب منظوری کا جواب بھی موصول ہو گیا ، آپ قادیان تشریف لے گئے اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوئے۔حضور نے دریافت فرمایا کہ شناخت کیسے ہوئی۔آپ نے ساری تفصیل عرض کر دی۔حضور نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا : - طلب کی۔“ آپ نے خوب کیا۔دعاؤں کے بعد قرآن شریف سے راہنمائی حضور نے ایسے پیارے الفاظ کہے۔ایسے حسین وقار کے ساتھ حضور نے میرا حال سنا اور پیارے مسکراتے چہرہ سے مجھے وہ الفاظ فرمائے کہ جب کبھی اس پہلی ملاقات کا تذکرہ کیا ہے میرے دل میں ایک ایسی لہر پیدا ہو جاتی ہے جس کا الفاظ میں اظہار نہیں کرسکتا۔“ حضرت اقدس نے آپ کو واپسی کی اجازت دی اور آپ قادیان دارالامان میں دو ایک روز کے مختصر قیام کے بعد مع اہل و عیال گورداسپور سے ہوکر واپس بلوچستان آ گئے۔آپ نے اپنے نام الحکم اور ریویو آف ریلیجنز (اردو) جاری کروا لئے۔حضرت بابو صاحب نے ملازمت کے دوران تقویٰ کی باریک راہوں پر عمل پیرا ہونے کا ایسا مثالی نمونہ دکھلایا جو آئندہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس ضمن میں ان کے فرزند میاں بشیر احمد صاحب مرحوم ( سابق امیر جماعت احمد یہ جھنگ) کے بیان فرمودہ بعض دلچسپ واقعات کا خلاصہ ذکر کرنا مناسب ہوگا۔ا۔ایک مسلمان ہیڈ ماسٹر کی اہلیہ کو سفر کے دوران جھٹ پٹ سے ایک سٹیشن قبل زچگی شروع ہو گئی۔ہندو اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر نے اسے بتایا کہ اگلے سٹیشن پر ایک مسلمان اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر ڈیوٹی پر ہے۔آپ وہاں پہنچیں۔چنانچہ گاڑی آئی تو والد صاحب نے اس خاتون کو پلنگ پر اٹھوا کر اپنے گھر بھجوا دیا۔اور ساتھ ہی اپنے افرسٹیشن ماسٹر اور اس کی اہلیہ کو بھی بلوالیا نیز ایک بلوچ کو ایک تیز گھوڑے پر بھجوایا تا چپیس میل کے فاصلہ سے دایہ کو لے کر آئے۔اس خاتون کو اچھی طرح سنبھال لیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اسے چار لڑکیوں کے بعد بیٹا عطا کیا۔دایہ بعد مسافت کی