تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 439
تاریخ احمدیت 439 حضرت با بو فقیر علی صاحب ریٹائر ڈ اسٹیشن ماسٹر ولادت ۱۸۸۲ ء یا ۱۸۸۴ء، بیعت ۱۹۰۵ء ، وفات ۱۴ر دسمبر ۱۹۵۹ء) جلد ۲۰ حضرت بابو صاحب کا اصل وطن کو ٹلہ ضلع گورداسپور تھا۔بچپن میں آپ کے کانوں میں احمدیت کی آواز موضع تھصہ غلام نبی (ضلع گورداسپور ) کے احمدی بزرگوں کے ذریعہ پہنچی۔زمانہ تعلیم میں آپ حضرت منشی عبدالغنی صاحب و حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی اور سیکھوانی برادران سے متعارف تھے۔اور شروع سے اخبار الحکم اور البدر کا دلچسپی سے مطالعہ کیا کرتے تھے۔۱۹۰۵ء میں آپ بلوچستان کے پہلے اسٹیشن جھٹ پٹ پر بطور اسٹمنٹ اسٹیشن ماسٹرمتعین تھے کہ حضرت منشی عبد الغنی صاحب نے آپ کو حضرت مسیح موعود کا اشتہار ” الانذار (مورخہ ۱/۸اپریل ۱۹۰۵ء ) ارسال فرمایا تھا۔جس کو پڑھتے ہی آپ کے دل میں سخت کرب و اضطرار پیدا ہوا۔۲۴ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس میں یہ زبر دست انتباہ فرمایا تھا کہ : - ”دیکھو آج میں نے بتلا دیا زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی کہ ہر ایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پر آمادہ ہوگا اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے نا پاک کرے گا وہ پکڑا جائے گا۔خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اترے۔کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی ہے۔پس اٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ کہ وہ آخری وقت قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اس کی طرف سے ہیں آگ لگ چکی ہے اٹھو اور اس آگ کو اپنے آنسوؤں سے بجھاؤ۔“ حضرت بابو صاحب نے اشتہار کے لرزا دینے والے الفاظ پڑھ کر سنسان مقامات پر جا کر دعائیں شروع کر دیں کہ اے اللہ ، اے اللہ میری راہنمائی فرما۔اگر مرزا صاحب تیری طرف سے ہیں اور میں ان کو قبول کئے بغیر مر گیا تو کیا بنے گا؟ اور اگر بیعت کرلوں اور یہ امر درست نہ ہو تو کیا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور عجیب طریق سے صداقت آپ پر کھول دی۔واقعہ یوں ہوا کہ ایک دن آپ نے اپنے عزیز رشتہ داروں کی معیت میں نماز فجر کے بعد قرآن مجید ہاتھ میں لیا اور کہا کہ آپ سب گواہ رہیں کہ اس وقت میں حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا فیصلہ قرآن مجید سے چاہوں گا۔جو مسلمہ طور پر کلام اللہ ہے۔دائیں طرف کی سطر فیصلہ