تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 438 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 438

تاریخ احمدیت 438 سپرنٹنڈنٹ صاحب کو (جن کا نام غالبا محمد عبداللہ تھا ) دے دی۔وہ عرضی لے کر دو پہر کے کھانے کے وقفہ پر ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس گئے اور بتایا کہ اس قسم کی عرضی آئی ہے۔اس ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنی سبکی ہونے کے خیال سے فوری طور پر دیوان سکھا نند مجسٹریٹ کو بلایا اور اس کو کچھ ہدایات دیں۔پیشی کی آواز پڑنے پر جب میاں صاحب عدالت میں گئے تو مجسٹریٹ صاحب نے میاں صاحب سے کہا کہ آپ تو چھوٹے ہتھیاروں پر آگئے ہیں۔آئندہ سے ۱۵۱/ ۰۷ا ختم کی جاتی ہے۔آپ پیشی پر نہ آیا کریں۔یہ سن کر میاں صاحب نے دوسری عرضی جس میں میاں خیر الدین صاحب کی ضمانت کی منسوخی کی تحریر تھی مجسٹریٹ صاحب کے سامنے رکھ دی کہ میں ان کی ضمانت نہیں دینی چاہتا۔اس پر اگر چہ جرم ۳۰۲ تعزیرات ہند کا تھا مگر دیوان سکھانند صاحب نے میاں خیر الدین صاحب سے بھی یہی کہا کہ اچھا آپ ہی تاریخ پر آجایا کریں اور کوئی مزید ضمانت طلب نہ کی۔جلد ہی سیشن جج صاحب نے جو کٹر ہندو تھے میاں خیر الدین کو اس مقدمہ میں سزائے موت دے دی جو کہ ہائی کورٹ لاہور میں اپیل کرنے پر بعد میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بری ہو گئے اور ۱۹۴۷ء تک اگر چہ احمدیت میں شامل تو نہیں ہوئے مگر جماعت کے بڑے احسان مند اور بڑے تعریف کرنے والوں میں سے تھے۔۱۹۴۷ء کے فسادات سے قبل ظفر وال میں سکھوں اور ہندوؤں نے بھی چندہ دے کر مسجد کو پختہ بنوا دیا اور ۱۹۴۷ء کے فسادات کے دوران میاں خیر الدین صاحب کو جو ظفر وال سے نکل کر فیض اللہ چک آرہے تھے سکھوں کے بعض نوجوان ورغلا کر واپس لے گئے اور جاکر شہید کر دیا۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دے۔“ 66 اولاد ۲۱ جلد ۲۰ ۱- خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ میاں محمد لطیف صاحب ابن حضرت میاں فضل الہی صاحب (رفیق حضرت مسیح موعود ) وفات ۱۹۷۵ء۲ - پارساں بیگم صاحبہ اہلیہ صو بیدار غلام رسول صاحب ( وفات ۱۹۵۲ء) ۳ - ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ ساہیوال ۲۳