تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 437 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 437

تاریخ احمدیت 437 کے موقع پر ( جو غالبا ۱۲ را پر میل تھی ) سکھوں کے کچھ نوجوان لڑکے میلہ سے واپس آئے وہ شراب کے نشہ میں دھت تھے اس وقت میاں خیرالدین صاحب اپنے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ان لڑکوں نے نمازیوں پر بلا وجہ اور بلا اشتعال حملہ کر دیا۔امام صاحب کو بھی مارنا شروع کیا۔امام صاحب نماز کے دوران ہی مسجد کے کمرہ کے اندر جو کچا کمرہ تھا چلے گئے۔ان کے پیچھے ہی نمبر دار کا لڑکا جو کہ سکھ تھا مسجد کے کمرہ میں ان کو مارنے کے لئے چلا گیا۔اور اندر وہ میاں خیر الدین صاحب کو مارنے کی بجائے خود مارا گیا۔پولیس میں رپورٹ ہوئی۔علاقہ کا تھانیدار بھی سکھ تھا۔اس نے آکر میاں خیر الدین صاحب کو ۳۰۲ ت ھ کے تحت گرفتار کر لیا اور فیض اللہ چک کے بعض افراد جن میں حضرت میاں عظیم اللہ صاحب بھی شامل تھے ان کو مسلمانوں کو منظم کرنے کے جرم ۱۵۱/ ۱۰۷ کے تحت مقدمہ قائم کر دیا۔چنانچہ میاں عظیم اللہ صاحب نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی اور ان دونوں کیسوں کی سماعت ایک ہند و مجسٹریٹ دیوان سکھا نند کی عدالت میں شروع ہوئی۔کئی پیشیاں ہوئیں۔حضرت میاں عظیم اللہ صاحب نے میاں خیر الدین کی ۳۰۲ ت ھ کے کیس میں ضمانت دی ہوئی تھی۔ނ اسی دوران حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب قادیان تشریف لائے۔میاں صاحب نے ان کیسوں کے مفصل حالات بیان کر کے ان مشورہ طلب کیا۔حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا کہ خیرالدین صاحب کی ضمانت منسوخ کر دو اور ہائی کورٹ میں مقدمہ کے کسی اور ضلع میں تبدیل کئے جانے کی درخواست دے دو۔اگلی تاریخ پیشی پر محترم میاں عظیم اللہ صاحب نے اپنے وکلاء سے یہ تمام حالات بتا کر ایسی عرضی تیار کرنے کو کہا کہ اس ضلع میں ہم کو انصاف کی امید نہیں ہے۔ہمارے کیس کی سماعت روک دی جائے۔ہم ہائی کورٹ میں کسی اور ضلع میں کیس تبدیل کرنے کی عرضی دینا چاہتے ہیں۔مسلمان وکلاء نے ڈپٹی کمشنر صاحب کے خلاف عرضی دینے سے معذوری کا اظہار کیا۔چنانچہ میاں صاحب نے خود ہی اس مضمون کی عرضی ڈپٹی کمشنر صاحب کے نام تحریر کرلی اور ڈپٹی کمشنر صاحب کے آفس جلد ۲۰