تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 430
تاریخ احمدیت 430 نرینہ اولاد سے نوازے۔میں نے ان کے احسانات کی وجہ سے دعا کے لئے خاص جوش محسوس کیا۔اور کہا کہ آئیے سب مل کر دعا کرلیں۔جب میں نے دعا کی تو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت محسوس کی۔اور ان کو اطلاع دے دی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو نرینہ اولاد عطا فرمائی۔اور اب ان کے لڑکے جوان اور برسر روزگار ہیں اور میں بہت خوش ہوں کہ میرے محسنوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقصد میں کامیاب فرمایا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔“ آپ موضع معین الدین پور نز د گجرات کے باشندے تھے۔اور وہاں کی رہائش ترک کر کے اپنے خسر حضرت سید محمود شاہ صاحب کے گاؤں فتح پور ضلع گجرات میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔۔۔حضرت سید محمود شاہ صاحب کی زندگی میں ہی سید محمد شاہ صاحب ملازمت سے فراغت پا کر اور پنشن یاب ہو جانے کے بعد سلسلہ کی خدمات میں پورے انہماک سے دلچسپی لیتے رہے۔لیکن اپنے خسر کی وفات کے بعد آپ نے سلسلہ کی ہر طرح کی خدمات کو نہایت تندہی سے سرانجام دینا شروع کیا اور پریذیڈنٹ مقامی جماعت اور امام الصلوۃ اور خطیب رہ کر سالہا سال تک سلسلہ کی ہر طرح دامے، درمے، قدمے سخنے خدمات سرانجام دیں۔فجزاہ اللہ خیر أحسناً۔“۔آپ ۸۵ سال کی عمر میں راہی عالم جاودانی ہوئے۔آپ سلسلہ کے لئے بہت غیرت رکھنے والے بزرگ تھے۔اور حضرت خلیفۃ امسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ انتہائی فدائیت کے نظارے ہم نے بار بار آپ کی زندگی میں دیکھے۔بیسیوں بار آپ کے گاؤں اور اردگرد کے دیہات میں احمدیت کی مخالفت کے طوفان اٹھے۔جس کا آپ نے مومنانہ جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور جماعت کو کئی آڑے وقتوں میں سنبھالا۔خاندان سادات کا ایک فرد اور اہلِ علم ہونے کی وجہ سے غیر احمدی اصحاب بھی آپ کے اور آپ کے خسر سید محمود شاہ صاحب کے ساتھ تعظیم کے ساتھ جلد ۲۰