تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 429
تاریخ احمدیت 429 فتحپور وغیرہ میں تبلیغ کے لئے گئے۔میں فتح پور میں کثرت کار کی وجہ سے بیمار ہو گیا۔مکرمی سید محمد شاہ صاحب نے مجھے مصری کا شربت اور اسبغول استعمال کرایا۔لیکن میرے ساتھ وہی معاملہ ہوا جس کے متعلق صاحب مثنوی نے فرمایا چوں قضا آمد طبیب ابله شود شربت پیتے ہی اسہال شروع ہو گئے۔اور تکلیف اس قدر بڑھ گئی که دو دو، چار چار منٹ کے بعد دست آنے شروع ہو گئے۔یہاں تک کہ قضائے حاجت کے لئے مکان کے اندر ہی انتظام کرنا پڑا۔سیدہ فاطمہ صاحبہ اہلیہ سید محمد شاہ صاحب نے اکرام ضیف اور تیمار داری کا وہ نمونہ دکھایا کہ دنیا میں بہت کم نظر آئے گا۔جب میری بیماری اور ضعف ہر آن بڑھتا گیا اور حالت نازک ہو گئی تو میں نے منشی محمد الدین صاحب سے کہا کہ میں اپنے آخری لمحات میں مناسب سمجھتا ہوں کہ وصیت تحریر کراؤں۔چنانچہ منشی صاحب کو میں نے وصیت لکھوا دی۔جب پڑھ کر سنائی گئی تو سب دوست آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تار کے ذریعے درخواست دعا کی۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور میں روبصحت ہونے لگا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ادھر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا گیا اور قدرت کی طرف سے اسباب مخالفہ کو اسباب مونعقہ میں تبدیل کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جب مجھے چلنے پھرنے کی نرینہ اولاد طاقت حاصل ہو گئی تو میں نے مکر می سید محمد شاہ صاحب اور ان کی اہلیہ مکرمہ کے احسانات کے پیش نظر ان دونوں کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اپنا کوئی مقصد بتا ئیں جس کے لئے میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کروں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے ہاں چار لڑکیاں پیدا ہوئی ہیں۔لیکن نرینہ اولا د کوئی نہیں۔ہماری آرزو ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں جلد ۲۰