تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 427 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 427

تاریخ احمدیت 427 جلد ۲۰ اولاد پڑھاتے اور اگر کوئی اور نہ ہو تو خود قرآن کریم پڑھتے رہتے اور حفظ کرتے۔اپنے بچے عبد الکریم کو پڑھاتے قرآن کریم بہت ہی صحیح پڑھتے تھے۔اور اپنے بچوں کو صحیح قرآن کریم پڑھایا۔اور جتنا حصہ قرآن کریم کا حفظ تھا با قاعدہ تہجد میں پڑھتے تھے۔آپ کی لڑکی اچانک فوت ہوگئی تو صبر واستقلال دکھایا کوئی جزع فزع نہیں کیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جمعہ کا دن تھا دکان بند کر کے کھانا کھانے کے لئے گھر آگئے۔کھانا تیار نہ تھا کہنے لگے اگر انتظار کروں تو جمعہ کی نماز ضائع ہو جائے گی۔مجھے پانی دے دو۔پانی دیا تو نمک پانی میں ڈال کر اسی میں روٹی ڈبو ڈبو کر کھائی اور جمعہ کی نماز کے لئے چلے گئے۔اللہ اللہ درویشانہ زندگی بھی عجیب چیز ہے۔آپ علی العموم تنگدست رہتے تھے۔مگر سوال سے نفرت کیا کرتے تھے۔کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔بلکہ اس کو گناہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے خدا پر ایمان رکھو۔بندوں سے نہ مانگو خدا۔ނ مانگو۔آپ اپنے بال بچوں اور اہلیہ کے حق میں بہت ہی مہربان تھے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے صاحبزادے مرزا ظفر احمد کو آپ کی بیوی عائشہ بی بی صاحبہ نے دودھ پلایا ہوا تھا۔اس سعادت کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کے ساتھ بھی آپ کے خادمانہ تعلقات تھے۔ان کے بچے عام طور پر حضرت میاں صاحب کے گھر آتے جاتے تھے۔حضرت میاں صاحب بھی ان کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء۔حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا بھی ہر وقت ان کا خیال رکھا کرتی تھیں۔جب ان کی بڑی لڑکی جوان ہوئی تو حضرت اماں جان نے اس کی شادی میرے ساتھ تجویز فرمائی اور ہمیشہ ان کی خبر گیری کرتی رہیں۔اللہ اللہ ! ان لوگوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام کی کس قدر خیر خواہی تھی۔۱- مولوی عبدالکریم خاں صاحب -۲- زینب بی بی صاحبہ اہلیہ مولوی محمد شہزادہ خان صاحب افغان مرحوم ۳ - سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ میجر مصلح الدین سعید صاحب ۴ - امتہ الکریم بیگم صاحبہ (اہلیہ