تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 426 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 426

تاریخ احمدیت 426 مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں واپس قادیان پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت حضور کے پاس لاہور میں موجود تھے۔آپ نے مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ اول سے لے کر ۱۹۱۲ء تک حضرت خلیفہ اول کے درس میں بیٹھ کر علم حاصل کیا تھا۔ضروری مسائل کے علاوہ بعض احادیث کے الفاظ اور اکثر ان کے مضامین آپ کو زبانی یاد تھے۔۱۹۱۲ ء میں حضرت خلیفہ اول نے ملا عبد الغفار صاحب من کی لڑکی عائشہ بی بی سے شادی کر دی اس شادی کی وجہ سے چار رفقاء سے آپ کا تعلق رشتہ داری قائم ہوا۔ملا عبدالغفار صاحب،ملا امیرالدین عرف میر وصاحب، مولوی عبدالستار عرف بزرگ صاحب ملا عبدالغفار کے لڑکے عبداللہ صاحب اور پانچویں خود مولوی غلام رسول صاحب ایک گھر میں پانچ رفیق حضرت مسیح موعود موجود تھے۔ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔شادی کے اخراجات کے بھی انتظامات حضرت خلیفہ اسیح اول نے کئے۔چار پانچ جوڑے لڑکی کے لئے بنائے اور چار پانچ جوڑے لڑکے کے لئے بنائے اس دن سات آٹھ لڑکیوں کا رخصتانہ حضرت خلیفہ اول نے کیا اور ہر ایک کو ایسا ہی جہیز اپنے پاس سے دیا تھا۔شادی کے بعد چند دن لنگر سے کھانا کھایا بعد میں بٹالہ سے گوشت لاکر بیچا کرتے تھے اور اس کے بعد کریانہ کی دوکان ڈال کر مستقل تجارت شروع کی۔امانت دیانت میں اتنے مشہور ہو گئے کہ باہر سے لوگ بچوں کو بھیج کر ان سے سودا منگوایا کرتے تھے۔چونکہ تجارت کی رقم اپنی نہیں تھی اور حساب کتاب با قاعدہ نہیں سیکھا تھا اور تجارتی اصول سے بھی ناواقف تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھاری نقصان ہوا۔قرضہ میں آپ کا مکان بکا مگر اس کو برا نہیں منایا بلکہ خندہ پیشانی سے قبول کیا۔اس کے بعد دودھ کی دکان ڈالی اس میں بھی امانت دیانت کی غیر معمولی طور پر شہرت ہوئی۔خالص دودھ بیچتے اور قطرہ پانی نہیں ڈالتے تھے۔جب آپ کے پاس غلطی سے کھوٹا سکہ آتا تو اسے ضائع کرتے یا پتھر سے توڑ دیتے کہ مجھے تو دھو کہ لگا ہے کسی اور کو دھو کہ نہ لگے۔علی العموم دکان میں درس جاری رکھتے تھے۔کسی کو قرآن کریم پڑھاتے کسی کو عمدۃ الاحکام جلد ۲۰