تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 407
تاریخ احمدیت 407 نماز جنازه محترم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل نے جنازہ گاہ میں ادا فرمائی۔اور اس موقع پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر اجتماعی دعا ہوئی۔مورخہ ۱۶، ۱۷ دسمبر کی درمیانی شب بیت مبارک میں زیر صدارت جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمد یہ لا ہور ذکرِ حبیب کی مجلس منعقد ہوئی۔جس میں مختلف رفقاء خاص کی طرف سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں ایک ایک روایت سنانے کا اہتمام ہوا۔چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی، محترم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل، حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری، جناب شیخ عبدالعزیز صاحب رفقاء حضرت مسیح موعود نے روایات سنائیں۔جناب ملک صلاح الدین صاحب نے بھی بعض رفقاء کی مروی روایات پڑھ کر سنا ئیں۔اس موقعہ پر جناب میاں عطاء اللہ صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی نے رفقاء کرام کے مقام پر ایک پر مغز تقریر فرمائی اور صدر جلسہ نے رفقاء کرام کے حالات اور ان کی بیان کردہ روایات کو محفوظ کرنے کی اہمیت وضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اور اس سلسلہ میں اپنے والد ماجد حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب اور اپنی والدہ ماجدہ ( جو دونوں ہی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء میں سے تھے ) کی چند ایمان افروز روایات سنائیں۔ذکرِ حبیب کی یہ مجلس آٹھ بجے سے دس بجے تک جاری رہی۔مورخہ ۱۷، ۱۸ کی درمیانی شب ساڑھے سات بجے بعد نماز عشاء بيت اقصیٰ میں زیر صدارت جناب لیفٹینٹ کرنل سردار سرین سنگھ صاحب سرائے خاص ضلع جالندھر چالیس زبانوں میں تقاریر ہوئیں۔جس کا اہتمام مکرم قریشی فیروز محی الدین صاحب آف ربوہ سابق مبلغ سنگا پور نے کیا۔یہ سوا تین درجن مختلف زبانیں بولنے والے سب کے سب مسیح پاک علیہ السلام کے پروانے ہی تھے۔اور اس طرح سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو برسوں پہلے دیئے گئے خدائی وعدہ کا ایفا ء سب حاضرین مجلس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۵ء میں فرمایا تھا: - جلد ۲۰