تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 403
تاریخ احمدیت 403 رب انك تعلم ولا اعلم وانت اعلم منى من خفاء نقائصى فانزل على فضلك ورحمتك وازل عن طريقتى كل عوائق لاتقرنى بعدى وانت اعلم منى من حالی۔“ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام بسم ا الله الرحمن الرحيم مرزا محمود احمد - ۱۳/ دسمبر ۱۹۵۹ء۔AY نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود مکرمی و محتر می مولوی عبد الرحمن صاحب امیر جماعت احمد یہ قادیان!۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فضل الحمد لله ثم الحمد للہ کہ چار پانچ سال طویل وقفہ کے بعد احباب جماعت پاکستان کو قافلہ کی صورت میں قادیان جانے کا موقعہ مل رہا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے یہ سفر اہلِ قافلہ کے لئے اور اہلِ قادیان کے لئے اور ہندوستان کے لئے اور پاکستان کے لئے اور ( دینِ حق ) اور احمدیت کے لئے ہر جہت سے مبارک اور مثمر ثمرات حسنہ کرے۔آمین یہ قافلہ گو دوسو افراد پر مشتمل ہے مگر دراصل پاکستان کی ساری ہی جماعت قادیان کی زیارت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعائیں کرنے کی تڑپ رکھتی ہے اور خدا سے دست دعا ہے کہ وہ اپنے سے کامل ملاپ کا رستہ کھولے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن عالمگیر ہے اس لئے یہ حد بندیاں یہ پابندیاں طبعا مخلص احمدی کے دل پر بہت گراں گزرتی ہیں ولعل الله يحدث بعد ذالك امرا۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ پر امن تبلیغ اور پاک نمونہ کے ذریعہ ( دینِ حق ) اور احمدیت کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے چلے جائیں اور ہر اسود احمر کے دل میں اس طرح گھر کر جائیں کہ ایک طاقتور مقناطیس کی طرح لوگ خود بخود آپ کی طرف کھنچتے چلے آئیں۔گزشتہ ایام میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کا دل قادیان کے لئے بہت بے چین رہا ہے اگر حضور کی یہ بے چینی خدائی تقدیر کی انگلی ہے جلد ۲۰