تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 25 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 25

تاریخ احمدیت 25 جماعت سنبھال سکتی ہے۔اس کے بعد دو چار مرکز جو ربوہ کے اردگرد رہ جائیں گے ان کی نگرانی خود دفتر اچھی طرح کرلے گا۔بہر حال اس وقت بعض بڑی جماعتوں کی خدمات کی ہمیں نگرانی کا کام سرانجام دینے کے لئے ضرورت ہے۔تاکہ کم سے کم خرچ پر زیادہ سے زیادہ کام ہو سکے۔اس وقت تک جور پورٹیں آ رہی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت خوشکن ہیں۔جو وفد بہاولپور ڈویژن کی طرح گیا تھا۔اس کے کام کا یہ اثر ہوا ہے۔ایک گریجوایٹ کے متعلق وہاں سے امیر کی چٹھی آئی ہے کہ اس نے بیعت کر لی ہے۔یہ دوست سلسلہ کے لٹریچر کا دیر سے مطالعہ کر رہے تھے۔اور وقف جدید کے معلم نے بھی مجھے لکھا تھا کہ ایک دوست احمدیت کے قریب ہیں۔اور سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیعت اس شخص کی ہوگی۔بہر حال اس تحریک کے نتائج خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے نکلنے لگ گئے ہیں۔سابق صوبہ سرحد کی طرف سے بھی اچھی رپورٹیں آ رہی ہیں۔وہاں ہم نے ایک کمپونڈ ر کو بھجوایا ہے۔پہلے اس کے بھائی نے وقف کیا تھا لیکن پھر اس نے ہمیں لکھا کہ میرے بھائی کو آپ چھوڑ دیں۔وہ دوسو تمیں روپے لیتا ہے۔اور اس کی آمد پر تمام گھر چلتا ہے پھر وہ کچھ زیادہ پڑھا ہوا بھی نہیں۔میں کمپونڈری پاس ہوں اور اپنی دوکان کرتا ہوں آپ مجھے لے لیں اور میرے بھائی کو چھوڑ دیں۔چنانچہ ہم نے اس کو رکھ لیا۔اور اسے پشاور کی طرف بھیجدیا۔جیسے سندھ میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔اسی طرح سرحد میں بھی ڈاکٹروں کی کمی ہے۔اب اس کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ بڑی کثرت کے ساتھ پٹھان میری دُکان پر آتے ہیں اور دین کی باتیں سنتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں بھی وفد گئے ہیں۔وہاں سے خوشکن اطلاعات آنی شروع ہو گئی ہیں۔مگر کہتے ہیں۔۔کے آمدی و کے پیر شدی جب میں ربوہ سے چلا تھا تو ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ان مرکزوں کو قائم کئے ہوا تھا۔حالانکہ اصل نتائج سال ڈیڑھ سال کے بعد نکلا کرتے ہیں۔پس صحیح جلد ۲۰