تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 383
تاریخ احمدیت 383 موعود علیہ السلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز تھے جو تمام نبیوں سے افضل تھے اور حضرت نوح بھی ان میں شامل تھے۔پس اگر نوح کو ساڑھے نو سو سال عمر ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ساڑھے نو ہزار سال عمر ملنی چاہئے اور اس عرصہ تک ہماری جماعت کو اپنی تبلیغی کوششیں وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہئے۔میں اس موقعہ پر وکالت تبشیر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بیرونی مشنوں کی رپورٹیں باقاعدگی کے ساتھ شائع کیا کرے تا کہ جماعت کو یہ پتہ لگتا رہے کہ یورپ اور امریکہ میں (دین حق ) کے لئے کیا کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور نو جوانوں کے دلوں میں ( دین حق ) کے لئے زندگیاں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو۔مگر جہاں یورپ اور امریکہ میں تبلیغ ( دین ) ضروری ہے وہاں پاکستان اور ہندوستان میں اصلاح وارشاد کے کام کو وسیع کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جس سے ہمیں کبھی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہئے۔دنیا میں کوئی درخت سرسبز نہیں ہوسکتا جس کی جڑھیں مضبوط نہ ہوں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اس کے نتیجہ میں اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں۔یعنی ایک طرف تو سچے مذہب کے پیرو اپنی کثرت تعداد کے لحاظ سے ساری دنیا میں پھیل جائیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اس کے ماننے والوں کو اتنی برکت دے کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچ جائیں۔یعنی ان کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہونے لگیں اور ان پر آسمانی انوار اور برکات کا نزول ہو۔یہی فرعها في السماء (ابراہیم : ۲۵) کے معنے ہیں کہ جو شخص آسمان پر جائے گا وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے گا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی جسمانی وجود نہیں اس لئے اس کے قریب ہونے کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سنے گا۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ مومن جب رات کو تہجد کے وقت دعائیں کرتا جلد ۲۰