تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 384
تاریخ احمدیت 384 ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کی قبولیت کے لئے آسمان سے اتر آتا ہے۔پس ضروری ہے کہ تمام جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو کہ اس کی دعائیں خدا تعالیٰ سننے لگ جائے اور پاتال تک اس کی جڑیں چلی جائیں اور دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہ رہے جس میں احمدی جماعت مضبوط نہ ہو اور احمدی جماعت کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جس کی دعائیں خدا تعالیٰ کثرت کے ساتھ قبول نہ کرے۔پس تبلیغ بھی کرو اور دعائیں بھی کرو تا اللہ تعالیٰ احمدیت کو غیر معمولی ترقی عطا کرے۔سکھوں کو دیکھو ان کا بانی نبی نہیں تھا مگر پھر بھی وہ بڑے پھیل گئے اور اب بھی ان میں اتنا جوش ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔تمہارا بانی تو نبی تھا اور اپنی تمام شان میں مسیح موسوی سے بڑھ کر تھا پھر اگر مسیح موسوی کی امت تمام دنیا میں پھیل گئی ہے تو مسیح محمدی جو ان سے بڑے تھے ان کی جماعت کیوں ساری دنیا میں نہیں پھیل سکتی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ اک شجر ہوں جس کو داؤ دی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار اور جالوت اس شخص کو کہتے ہیں جو فسادی ہو اور امن عامہ کو برباد کرنے والا ہو۔پس اس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن قائم فرمائے گا اور ہر قسم کے فتنہ و فساد اور شرارت کا سد باب کر دے گا۔پس۔۔نظام خلافت سے اپنے آپ کو پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ ” میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔“ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے کہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا جلد ۲۰