تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 23
تاریخ احمدیت 23 جلد ۲۰ وقف جدید کا خوشکن آغاز اور حضرت مصلح موعود کی سکیم وقف جدید کے پہلے وفد کی سرگرمیوں پر ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کے خوشکن اثرات نمایاں ہونے شروع ہو گئے۔اور حضرت مصلح موعود نے ۲۸ فروری ۱۹۵۸ء کے خطبہ جمعہ کراچی میں پیشگوئی فرمائی کہ:- ” خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کے آثار بتارہے ہیں کہ اس کا مستقبل بہت شاندار ہوگا“۔حضور نے اپنے اس خطبہ میں وقف جدید سے متعلق اپنی سکیم کی بہت سی جزئیات اور تفصیلات پر ولولہ انگیز انداز میں روشنی ڈالی۔چنانچہ ارشاد فرمایا :- جیسا کہ احباب کو معلوم ہے اس سال ایک وقف جدید کی تحریک کی گئی ہے جس کے ذریعہ تمام ملک میں رشد و اصلاح کے کام کو وسیع کرنے کے لئے واقف زندگی بھجوائے جارہے ہیں۔اب تک یہ واقفین ربوہ سے پشاور ڈویژن ملتان ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن میں بھجوائے گئے ہیں نیز خیر پور ڈویژن میں بھی اور حیدر آباد ڈویژن میں بھی بعض واقفین بھیجے گئے ہیں۔میں نے چوہدری عبداللہ خاں صاحب سے جو یہاں کی جماعت کے امیر ہیں کہا ہے کہ وہ ایک ایسا انسپکٹر مقرر کریں جو اس طرز سے نواب شاہ تک کے علاقہ کا دورہ کرے اور معلمین کے کام کی نگرانی کیا کرے۔آخر جو معلم جاتے ہیں ان کے کام کی نگرانی کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔مگر بجائے اس کے کہ ربوہ سے انسپکٹر بھجوایا جائے۔میں جانتا ہوں کہ کراچی سے ایک انسپکٹر نواب شاہ تک کے علاقہ کو سنبھال لے اور تمام مقامات کا دورہ کرے وہ کہتے تھے کہ اس غرض کے لئے ایک انسپکٹر وقف جدید مقرر کر دیا جائے گا میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس غرض کے لئے پیش کریں اگر ادھر سے نواب شاہ تک کے علاقہ کی نگرانی کراچی کرے تو ربوہ سے نواب شاہ تک کے علاقہ کی ہم خود نگرانی کر لیں گے۔اس کے بعد ہم ایک انسپکٹر صوبہ سرحد سے مانگ لیں گے جو مردان، نوشہرہ، راولپنڈی اور ایبٹ آباد وغیرہ کا کام سنبھال لے گا۔اس طرح نگرانی کا کام دو تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر خرچ بہت کم ہو جائے گا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ چوہدری صاحب سے