تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 379 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 379

تاریخ احمدیت 379 پھیلنا ہے اور انشاء اللہ ہماری آنے والی نسلوں کی مائیں بننا ہے چند الفاظ ضرور کہنے ہیں۔مجھے امید ہے کہ آپ میری ان باتوں کو غور سے سنیں گی۔محض سنیں گی نہیں بلکہ ایک عزم کے ساتھ انہیں دل کی گہرائیوں میں جگہ دیں گی۔اور خدا نہ کرے کہ آپ جلسہ برخواست ہونے کے بعد یہاں ہال میں ہی انہیں بھلا کر چلی جائیں۔آپ جانتی ہیں دنیا میں ہمارے کالج سے تعلیمی اور انتظامی لحاظ سے بہت بڑھ کر اعلیٰ کالج ہیں۔بہتر سے بہتر تعلیمی ادارے ہیں۔اور محترمہ پرنسپل صاحبہ اور نیز دیگر لیکچررز سے معذرت چاہتے ہوئے مجھے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بہتر معلمات معلمین بھی ہیں۔مگر پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں اور خوشی اور بفضلہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ جو دولت آپ کو یہاں سے مل سکتی ہے دنیا کے پردے پر کہیں بھی میسر نہیں آسکتی۔بشرطیکہ آپ اپنے دامن موتیوں سے بھر لیں۔اور مرکز کے ماحول سے حقیقی فائدہ اٹھا ئیں۔حضرت مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام نے جو خزائن تقسیم کرنے تھے اور کئے بلکہ اکناف عالم میں لٹائے وہ سونے چاندی کے ذخائر کی صورت میں نہ تھے نہ محض علوم ظاہری کی شکل میں بلکہ آپ کی آمد کا ایک مقصد تھا مسلمان را مسلمان باز کردند مراد محض اعمال ظاہری سے بھی نہیں تھی بلکہ ایک غالب محبت الہی اور مضبوط تعلق باللہ قلوب میں پیدا کرنا، ایمان کامل اور مردہ روحوں کو زندگی دوباره بخشا وہ مقصد تھا جس کے لئے آپ کو مسیحائے زماں بنا کر بھیجا گیا۔دنیائے روحانیت مفقود ہو چکی تھی۔اعمال جو باقی تھے وہ خشک چھلکوں کی صورت میں تھے جن کا کوئی مقصد مفاد باقی نہیں رہ جاتا۔سو آپ اپنے قلوب کا ہمیشہ جائزہ لیں۔اگر ان میں روحِ محبت رچ گئی ہے ایک حقیقی تڑپ اور سچا اخلاص ہے تو مطمئن ہو جانے کی وجہ جائز ہے۔ورنہ ہرگز نہیں۔علوم دنیاوی میں دنیا ہم سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔آپ کا اول مقصد ایمان بالیقین حاصل کرنا اور اتنا اخلاص ، محبت اپنے دلوں میں جاگزیں کرنا اور ایک جلد ۲۰