تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 378
تاریخ احمدیت 378 جلد ۲۰ نے ان نوجوان مبلغین کی قربانیوں اور مساعی کو قدر دانی سے سراہا ہے جو ملک کی تعلیمی اور روحانی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔عیسائی عوامل بھی مسلمانوں کی اس بیداری سے باخبر ہیں اور وہ ایسے انداز سے اس کے مقابلہ کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنوری ۱۹۶۰ء میں آزادی سے قبل سیرالیون ایک متحد قومیت کی شکل اختیار کر سکے۔لائبیریا میں بھی احمد یہ مبلغین کو وہاں کے عوام میں کام کرنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔اول اول ۱۹۵۷ء میں جب لائبیریا میں احمدیت کا قیام ہوا تو انہوں نے بہائی تحریک کے مقابلہ کے لئے خوب کوشش کی۔اس کے بعد مصنف نے اسلامی اذان کے زیر عنوان لکھا ” ( دینِ حق ) میں نمایاں ترین عالمگیر عبادت اسلامی اذان اور نماز ہے۔میرے لئے یہ امر بہت خوشی کا موجب ہوا کہ مجھے یروشلم کا قبة الضحر DOME OF ROCK I) جاکر نہ کی جدید مسجد عظیم ، اصفہان کی عظیم مسجد، ازرق اور لیگوس میں ایک ہی سڑک پر تین مختلف فرقوں کی مسجدوں نیز نیروبی کی احمد یہ بیت الذکر میں عبادت کے لئے داخل ہونے کا موقعہ حاصل ہوا۔“ مصنف نے مزید لکھا : - ۱۹۵۸ء کی کل افریقن چرچ کا نفرنس کی ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ہمارے لئے ( دین حق ) کی ترقی کے مسئلہ میں خاص اقدامات لابدی ہیں۔۱۳ اکتوبر ۱۹۵۹ء کو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا طالبات سے خطاب جامعہ نصرت ربوہ کے جلسہ تقسیم انعامات کی تقریب تھی اس موقع پر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے حسب ذیل خطبہ صدارت ارشاد فرمایا : - پرنسپل صاحبہ اور میری پیاری چھوٹی بہنو! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میں دلی مسرت سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔آپ نے اس خوشی کے موقعہ پر شمولیت کی دعوت دے کر مسرور کیا۔مجھے خصوصیت سے طالبات جامعہ کے لئے جنہوں نے یہاں سے تعلیم پا کر باہر نکلنا اور دنیا میں