تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 364
تاریخ احمدیت 364 خدا داد روحانی طاقتوں کے ذریعہ اس ملک کی خدمت میں لگ جائیں۔ہمارا خدا سب اسود و احمر کا مالک و آقا اور تمام گوروں، کالوں کا خالق اور رازق اور تمام پست و بلند قوموں کا حقیقی معبود ومسجود ہے اور اسی کے قدموں ا میں ہماری زندگی بسر ہونی چاہئے اور وہی ہماری کوششوں کو بارآور کرنے والا ہے۔ولاحول ولا قوة الا بالله العظيم۔وآخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين۔والسلام خالق ارض وسما کا ادنیٰ خادم جلد ۲۰ خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۱۹ / اگست ۱۹۵۹ء بشپ آف کراچی سے تبلیغی گفتگو ربوہ میں پادری صاحبان سے مذاکرہ کے قریباً دو ماہ بعد مولانا ابوالعطاء صاحب اگست ۱۹۵۹ء کے آخری عشرہ میں کوئٹہ تشریف لے گئے جہاں ان کی بشپ آف کراچی اور بعض دیگر پادری صاحبان سے تبادلہ خیالات ہوا۔جس سے پاکستانی کلیسیا پر حجت تمام ہو گئی۔مولانا ابوالعطاء صاحب نے اس اہم دینی گفتگو کی تفصیلات بھی رسالہ الفرقان ستمبر ۱۹۵۹ء میں شائع کر دیں۔مولانا عبدالمجید صاحب سالک کی وفات اس سال جماعت احمد یہ پٹھانکوٹ کے ممتاز رکن منشی غلام قادر صاحب سیکرٹری میونسپل کمیٹی کے چشم و چراغ، حضرت مولانا عبد اللہ بکل مصنف ”ارج المطالب“ کی سکے زئی برادری کے درخشندہ گوہر اور برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز صحافی وادیب اور صاحب طرز شاعر مولانا عبدالمجید صاحب سالک ۲۷ ستمبر ۱۹۵۹ء کو راہی ملک بقا ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔۴۴ مولانا سالک صاحب ۱۳ / دسمبر ۱۸۹۴ء کو قادیان دارالامان کے ماحول میں واقع قصبہ بٹالہ میں پیدا ہوئے۔۱۹۱۲ ء میں پٹھان کوٹ سے ادبی ماہنامہ ” فانوس خیال“ جاری کر کے صحافتی زندگی میں قدم رکھا۔حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل کا بیان ہے کہ :- ۱۹۱۲ء کا ذکر ہے کہ ان کا ایک خط پٹھانکوٹ سے مجھے موصول ہوا کہ میں ایک ادبی رسالہ ماہوار شائع کرنا چاہتا ہوں اس کا پہلا نمبر مجھے چھپوا