تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 361 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 361

تاریخ احمدیت 361 جلد ۲۰ جماعتیں اپنے کام میں مصروف نہ ہوں۔اور انہوں نے خاص عزت و وقار نہ حاصل کرلیا ہو۔پھر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ کامیابیاں بغیر انتہائی خلوص و صداقت کے آسانی سے حاصل ہو سکتی تھیں۔کیا یہ جذ بہ خلوص و صداقت کسی جماعت میں پیدا ہو سکتا ہے اگر اسے اپنے ہادی و مرشد کی صداقت پر یقین نہ ہو۔اور کیا وہ ہادی و مرشد اتنی مخلص جماعت پیدا کر سکتا تھا اگر وہ خود اپنی جگہ صادق مخلص نہ ہوتا۔بہر حال اس سے انکار ممکن نہیں کہ مرزا صاحب بڑے مخلص انسان تھے۔اور یہ محض ان کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی بے عمل جماعت میں عملی زندگی کا احساس پیدا ہوا۔اور ایک مستقل حقیقت بن گیا۔۴۲ 66 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ولولہ ۱۹ار اگست ۱۹۵۹ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہندوستانی احمدیوں کے نام حسب ذیل انگیز پیغام ہندوستانی احمدیوں کے نام پیغام ارسال فرمایا جو بدر ۲۷ اگست ۱۹۵۹ء کے صفحہ ۲۱ میں نمایاں قلم کے ساتھ اشاعت پذیر ہوا: - بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود مکرمی و محترمی ناظر صاحب اعلیٰ قادیان وو السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میری طرف سے ذیل کا پیغام دوستوں تک پہنچا دیا جائے۔مجھے یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی کہ بھارت کے تمام شہریوں کے لئے اب کشمیر کا رستہ کھل گیا ہے بلکہ ایک تربیتی وفد بھی قادیان کے دوستوں کا کشمیر کی وادی میں ہو آیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس وفد کی نیک مساعی کو کامیاب کرے اور کشمیر کے احمدیوں کو نہ صرف اخلاص اور تقویٰ اور عمل صالح میں ترقی دے بلکہ ان کی تعداد کو بھی بڑھائے۔آمین یا ارحم الراحمین۔کشمیر کے ساتھ خدا کے فضل سے ہمارا خاص روحانی تعلق ہے۔کیونکہ اول تو اس کے مرکزی شہر سرینگر میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مزار ہے جن کا مثیل بنا کر خدا نے ہمارے سلسلہ کے مقدس بانی کو مبعوث