تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 355 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 355

تاریخ احمدیت 355 جلد ۲۰ انگریز کے چلے جانے کا ذکر آیا تو کہنے لگے ” کہاں گیا ہے۔کون کہتا ہے گیا ہے۔اب امریکہ جو ہے چا ٹائم میں نے طرح دی کہ شاہ صاحب چانہیں تا یا ٹھہرا۔بڑا بھائی ہے۔”ہاں ہاں بھائی ترمیم منظور کرتا ہوں۔اور پھر یوں گویا ہوئے ” کہاں گئے انگریز۔تمہاری جماعت جو موجود ہے۔انگریز کہاں گیا۔“۔میں نے عرض کی شاہ صاحب! پھر قرآن مجید کی اس آیت کا کیا مفہوم بنے گا۔ولو تقول علينا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين۔فما منكم من احد عنه حاجزين- کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی ہم پر افترا کرے تو ہمارے عذاب سے اسے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔شاہ صاحب نے فرمایا پھر انگریز سب سے نیچے ہوئے۔میں نے عرض کی شاہ صاحب! انگریز نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خدا کے فرستادہ ہیں۔شاہ صاحب نے فرمایا یہ تو بھئی دوسری بات ہے۔اب شاہ صاحب یہ چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ گفتگو ختم کیا جائے۔چنانچہ ان کی خواہش کے پیش نظر ہم نے اجازت چاہی اور سلیک علیک کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے۔اخبار چراغ سحر کا نوٹ اس سلسلہ میں مزید یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ جالندھر کے روز نامہ پرتاپ“ نے ”چراغ سحر“ کے زیر عنوان " حسب ذیل نوٹ لکھا : - و جس شخص کو متحدہ پنجاب میں خطیب الامت ، امیر شریعت، خطیب اعظم اور امیر احرار وو کہا جاتا تھا جس کی تقریروں پر لوگ جھوم اٹھتے تھے۔جو انہیں ہنسانا بھی جانتا تھا اور رلانا بھی۔جس کی آواز میں ایسا جادو تھا کہ لاکھوں کا مجمع مسحور و مبہوت بیٹھا رہتا تھا۔اب پاکستان میں اپنے دن کس طرح کاٹ رہا ہے؟ یہ پاکستانی معاصر ” کوہستان کے سٹاف رپورٹر سے سنئے : - وہ ملتان کے ایک چالیس روپیہ ماہوار کرایہ کے مکان میں رہتا ہے۔اتنی گمنامی کی زندگی بسر کر رہا ہے کہ محلہ والوں سے پوچھئے کہ بخاری کہاں ہے؟ تو وہ سر ہلا دیں گے۔جوں جوں وہ زندگی کا سفر طے کر رہا ہے سارے رشتے آہستہ آہستہ ختم ہورہے ہیں۔بخاری اب زندگی کے افق کی ایک شفق ہے جسے نہ جانے کب موت کی سیاہی پاٹ جائے۔زندگی اس کا ساتھ چھوڑنے کو ہے۔ذیا بیطیس کا مرض ہے۔بڑھاپے نے اس سے سب کچھ چھین لیا۔حتی کہ قوت گویائی بھی عمر پا گئی ہے اور اب وہ نظر کی کمزوری کی وجہ