تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 351 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 351

تاریخ احمدیت 351 جلد ۲۰ صاحب ایڈووکیٹ ملتان نے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری (امیر شریعت احرار ) سے ملاقات کی۔شاہ جی ان دنوں ملتان شہر کے محلہ فرید آباد میں نہایت کسمپرسی کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے تھے۔اس ملاقات کی تفصیل جناب سیف صاحب کے قلم سے سپر دقر طاس کی جاتی ہے۔۱۴؍ جولائی ۱۹۵۹ء کی ایک شام محلہ فرید آباد ملتان میں ہم اپنے دوست منظور احمد صاحب کے ساتھ کھڑے تھے۔باتوں باتوں میں منظور احمد صاحب نے کہا یہ وہ محلہ ہے جہاں عطاء اللہ شاہ بخاری رہتے ہیں۔جو نہی منظور احمد صاحب نے یہ کہا فوراً ہم نے کہا پھر ان سے ملاقات کرائیے۔بمشکل یہ فقرہ پورا کیا ہوگا کہ منظور احمد صاحب نے اشارہ کیا وہ جارہے ہیں بخاری صاحب۔کپڑے کی ٹوپی پہنے ہلمل کا کرتہ زیب تن کئے ، دھوتی باندھے، سوٹی کو ٹیکتے ہوئے ، ساتھی کے کندھے پر ہاتھ رکھے موٹے شیشے کی عینک لگائے ، خراماں خراماں ایک سفید ریش مولوی صاحب چلے جا رہے تھے۔ہم تینوں ملک سیف الرحمن صاحب، منظور احمد صاحب اور راقم الحروف آگے بڑھے۔د السلام علیکم شاہ صاحب نے جواب میں وعلیکم السلام کہا۔منظور احمد صاحب نے تعارف کرایا۔میں نے مزاج پرسی کی۔شاہ صاحب! کیا حال ہے؟ شاہ صاحب موٹے شیشے کی عینک میں سے دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔شاہ صاحب کے متعلق جو کچھ سنا ہوا تھا اب اس کے صرف آثار ہی تھے۔شاہ صاحب نے جواب دیا۔” اچھا ہے۔جیسا شامِ غریباں میں جنون کا ہونا چاہئے۔“ اور اس فقرے کے ساتھ سر کو خاص انداز میں داد کے لئے جنبش دی اور رخصت ہو گئے۔یہ تو سر را ہے ملاقات تھی۔میں نے منظور احمد صاحب سے کہا بھئی شاہ صاحب سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔آپ وقت لیں اور کل پانچ بجے کا وقت مناسب ہوگا۔چنانچہ انہوں نے ایک دوست کے ذریعہ وقت لیا اور ہم اگلے دن چوہدری عبدالحفیظ صاحب وکیل کے ہمراہ پانچ بجے شاہ صاحب کے دولت کدہ پر حاضر ہو گئے۔پیچ در پیچ گلی میں سے ہم ہوتے ہوئے ایک مکان کے سامنے منظور صاحب نے ہمیں لاکھڑا کیا۔ہم بیٹھک میں داخل ہوئے۔ایک چھوٹا سا لڑکا اور ایک دیہاتی دوست چٹائی پر بیٹھے