تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 347
تاریخ احمدیت 347 چل پڑیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔بالآخر ایک ڈاکٹر صاحب نے باہر آکر عزیزم نذیر احمد خان کو کہا کہ آپ کے والد صاحب ۲۰،۱۵ منٹ کے مہمان ہیں سواری کا جلد انتظام کرلو۔مگر عزیز نذیر احمد خان نے کہا کہ جناب آپ مطمئن ہو کر اپریشن کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے والد صاحب ابھی نہیں مرتے۔مگر ڈاکٹر صاحبان اپریشن پر تیار نہ ہوتے تھے۔آخر نذیر احمد خان نے یہ تحریر لکھ کر ڈاکٹر صاحب کو دے دی کہ اگر اپریشن میں میرے والد صاحب فوت ہو گئے تو آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوگی۔اس فیصلہ کے بعد جناب ڈاکٹر صاحبان دوبارہ میرے پاس آکر میری نبض اور دل دیکھنے لگے تو دونو درست چل رہے تھے۔تب بغیر کلور و فارم سونگھائے میرا اپریشن شروع کر دیا۔اور بار بار میرے دل کی بابت پوچھتے کہ دل کا کیا حال ہے؟ میں جواب دیتا کہ ٹھیک ہے آپ بیشک اپنا کام کرتے جائیں۔آخر انہوں نے میرا ہاتھ الگ کر دیا اور میں نے اطمینان کا سانس لیا۔الحمد للہ ڈاکٹر صاحب نے باہر آ کر نذیر احمد خان سے پوچھا کہ آپ کس بناء پر بڑے وثوق سے کہتے تھے کہ آپ بے شک اطمینان سے اپریشن کریں۔میرے والد صاحب ابھی نہیں مرتے حالانکہ وہ تقریباً مر چکے تھے۔تو برخوردار نے جواب دیا کہ میرے بڑے بھائی بشیر احمد خان بی اے کا لنڈن سے خط آیا ہے کہ انہوں نے والد صاحب کے زخمی ہو جانے کی خبر سن کر اللہ تعالیٰ سے بہت رو رو کر ان کی صحت کے لئے دعائیں کی ہیں۔اور انہیں اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ تمہارا والد ۸۰ سال زندہ رہے گا اور میرے والد صاحب کی عمر ابھی ۷۰ سال ہے۔گویا ۱۰ سال باقی ہیں۔اس بناء پر میں نے عرض کیا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میرے بھائی کی بات ضرور سچی ہوگی۔کیونکہ وہ واقف زندگی ہو کر دین کی خدمت کو گیا ہے اور مبلغ دین ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر بتائی ہے۔یہ واقعہ سن کر جناب میجر ڈاکٹر محمد اکرم صاحب بہت متعجب اور متاثر ہوئے اور میرے بڑے بیٹے بشیر احمد خان مبلغ کا بار بار حال پوچھتے۔جلد ۲۰