تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 345 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 345

تاریخ احمدیت 345 جلد ۲۰ فصل دوم ربوہ میں ایک کامیاب تبلیغی مذاکرہ اس سال کا ایک قابلِ ذکر واقعہ یہ ہے کہ ۲۰ / جون ۱۹۵۹ء کو خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب کا سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے بعض پادری صاحبان سے ”نجات“ کے موضوع پر ایک کامیاب تبلیغی مذاکرہ ہوا جو بیت مبارک ربوہ میں قریبا تین گھنٹہ تک جاری رہا۔یہ مذاکرہ کسر صلیب کا مجسم ثبوت اور حضرت مسیح موعود کے جدید علم کلام کی برتری کا منہ بولتا نشان تھا۔اس مذاکرہ کی مختصر روداد مولانا صاحب کے قلم سے رسالہ ”الفرقان“ جون، جولائی ۱۹۵۹ء میں شائع شدہ ہے اور قابلِ دید ہے۔احمدیت کا خدا زندہ خدا ہے جس کی زندہ قدرتوں کے نمونے ایک ایمان افروز واقعہ جماعت احمدیہ میں ہمیشہ ظاہر ہوتے رہے ہیں اسی قسم کا ایک ایمان افروز نشان اس سال پاکستان کے صوبہ سرحد میں ظاہر ہوا جو سلسلہ کے ایک ممتاز فرد خان دانشمند خاں صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ شہر ہی ضلع پشاور کی ذات سے متعلق تھا آپ تحریر فرماتے ہیں:- سر مورخہ ۱۳، ۱۴ / جولائی ۱۹۵۹ء کی درمیانی رات کو ڈیڑھ بجے اس عاجز پر ( جبکہ میں اپنے موضع بانڈہ محبّ میں سویا ہوا تھا) کسی آدمی نے میرے بائیں کندھے پر بندوق سے فائر کیا اور زخمی کر کے بھاگ گیا۔اس وقت یہ عاجز دائیں کروٹ پر رو بقبلہ ہو کر لیٹا ہوا تھا اور حملہ آور نے کند ھے کو میرا سر سمجھ کر فائر کیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے میرے سر کو بچا لیا۔حملہ آور نے چونکہ دو گز کے فاصلہ سے چھرہ دار بندوق سے فائر کیا تھا اس لئے میرے ہاتھ کی بہت سی رگیں کٹ گئیں اور کافی خون جاری ہو جانے سے بہت ضعف ہو گیا۔مجھ سے تھوڑے فاصلہ پر دامادم محمد حسن خان صاحب درانی سوئے ہوئے تھے وہ بھی جاگ کر آگئے اور مجھے چار پائی پر ڈال کر اول تھا نہ میں اور