تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 19 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 19

تاریخ احمدیت فصل دوم 19 جلد ۲۰ درجنوری ۱۹۵۸ء کو حضرت خلیفہ اسی الثانی المصلح الموعود وقف جدید کے مالی نظام کی بنیاد نے اپنی ذاتی امانت تحریک جدید میں سے چھ سو روپیہ امانت تحریک وقف جدید میں منتقل کرنے کا وکیل اعلیٰ کو ارشاد فرمایا۔اس طرح خدا کے خلیفہ موعود کی مبارک رقم سے ”وقف جدید کے مالی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔امانت وقف جدید کی مذ اسی روز مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کے ذریعہ جاری ہوئی تھی۔۱۲ مخلصین جماعت کا شاندار لبیک حضرت مصلح موعود کی تقاریر، پیغامات اور خطبات نے پوری جماعت میں فدائیت و اخلاص کی ایک زبر دست لہر دوڑا دی اس نئی سکیم کا خلاصہ یہ تھا کہ : - ۱۔قریہ قریہ ایسے واقف زندگی معلمین متعین کئے جائیں جو قرآن مجید اور احمدیت کی تعلیم واشاعت کو ملک بھر میں عام کر دیں۔۲- احباب ان معلمین کے اخراجات کے سلسلہ میں کم از کم چھ روپے سالانہ فی کس اور زمیندار اصحاب اپنی اپنی اراضی میں سے کچھ حصہ اشاعت دین کی اس غرض کے لئے وقف کریں۔۳- اگر کسی جگہ احباب جماعت کی تعداد مختصر اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہو تو ایک ایک یا تین تین اصحاب مل کر بھی اس چندہ کی ادائیگی میں یا زمین کے وقف میں حصہ لے سکتے ہیں۔مخلصین جماعت نے وقف جدید کے تینوں پہلوؤں کی طرف فوری توجہ دی اور جوش و خروش کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ تحریک جدید کے ابتدائی ایام ( نومبر ۱۹۳۴ء) کی یاد پھر سے تازہ ہوگئی۔نو جوانانِ احمدیت نے اپنے مقدس امام ہمام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور بہت سے دوستوں نے اراضی وقف کرنے اور چندہ پیش کرنے کی مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس مالی جہاد میں جماعت کے ہر طبقہ کے افراد شامل ہوئے مگر سب سے نمایاں قربانی حضرت مصلح موعود اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے کی جنہوں نے ابتداء ہی میں دس دس ایکٹر زمین وقف کی۔ایک مخلص احمدی محترم محمد اعظم صاحب بی ایس سی۔بیٹی سیکنڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ : - ۱۵