تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 330 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 330

تاریخ احمدیت 330 ہے وہ محض تک مارتا ہے جو بعض اوقات صحیح بھی ہو جاتی ہے۔میرا علاج وہی ہو رہا ہے جو جوانی کی عمر میں ہوتا تھا اور اس سے فائدہ ہو جاتا تھا۔لیکن اب اس علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کل ہی مجھ سے ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ یہ عمر کا تقاضا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک شخص بیعت کے لئے میرے پاس قادیان آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس کی عمر ۱۱۸ سال کی ہے اور وہ لاہور سے پیدل چل کر آیا ہے اور قادیان لاہور سے قریباً ۷۰ میل دور تھا۔پس اگر خدا تعالی طاقت دے اور وہ بڑی قدرتوں کا مالک ہے تو ۱۱۸ سال کی عمر کا آدمی بھی ۷۰ میل چل لیتا ہے میرا تو ابھی سترھواں سال شروع ہوا ہے اور میں اس کے شروع میں ہی اتنا کمزور ہو گیا ہوں کہ اس کی کوئی حد نہیں۔جب میں پڑھتا ہوں یا سنتا ہوں کہ میرے زمانہ میں ( دین حق ) دنیا کے کناروں تک پہنچ گیا ہے تو میں شرمندہ ہو کر خدا تعالیٰ سے کہتا ہوں کہ یہ محض اس کی حسن ظنی ہے ورنہ حق یہ ہے کہ میں وہ فرض پورا نہیں کر سکا جو تو نے میرے سپرد کیا تھا اگر میں وہ فرض پورا کر لیتا تو اب تک ( دینِ حق ) دنیا کے کناروں تک پھیل چکا ہوتا۔یہ میری غفلت اور کوتا ہی کا ہی نتیجہ ہے کہ ابھی دنیا کے صرف چند ہی ملکوں میں تبلیغ ہوئی ہے۔میں ۱۹۱۴ء میں خلیفہ ہوا تھا لیکن تحریک جدید جس کے ماتحت مبلغین باہر جاتے ہیں اس کی ابتداء ۱۹۳۴ء میں ہوئی۔گویا میں نے ۲۰ سال غفلت میں گزار دیئے یعنی ۲۰ سال بعد جا کر کہیں مجھے ہوش آئی کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عرصہ میں یورپ اور دیگر ممالک میں بیت الذکر تعمیر کی گئیں۔جماعتیں قائم ہوئیں اور بہت سے لوگ ( دین حق ) میں داخل ہوئے لیکن اگر یہ تحریک ۲۰ سال قبل شروع کی جاتی تو شاید جماعت کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی۔بہر حال میں جماعت سے ان کی اس تکلیف کی وجہ سے ہمدردی کرتے ہوئے جزا کم اللہ کہتا ہوں۔ایک خدمت ایسی ہوتی ہے کہ باتیں کرنے یا سننے سے اس کا کسی قدر بدلہ خدمت کرنے والے کو مل جاتا ہے لیکن آپ کو ایسی خدمت کی توفیق ملی ہے جو بغیر معاوضہ کے تھی۔میں ابھی تک اس کا کوئی معاوضہ نہیں دے سکا۔شاید اللہ تعالیٰ فضل کرے اور آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے جلد ۲۰