تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 331 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 331

تاریخ احمدیت 331 جلد ۲۰ دے۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے اور ادھر مجھے صحت اور ( دین حق ) کی خدمت کی توفیق دے۔کہ میں اور آپ سب ( دین حق ) کی ترقی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں قادیان بھی دے۔ہم اپنی زندگی میں قادیان جائیں۔اور ہم میں سے جو لوگ مستحق ہوں ان کو اللہ تعالیٰ بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں جگہ دے۔۔خدا تعالیٰ کا قرب تو ہمیں ہر جگہ نصیب ہے۔اینما تولوا فثم وجه الله جہاں بھی ہم جائیں خدا تعالیٰ موجود ہے لیکن خدا تعالیٰ کو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دیکھا ہے اس لئے ہمارا دل تڑپتا ہے کہ جہاں ہمیں خدا تعالیٰ کا ظاہری قرب نصیب ہے وہاں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظاہری قرب بھی نصیب ہو۔آپ کا قرب باطنی تو ہر ایمان والے کو حاصل ہے لیکن قادیان بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے کو آپ کا ظاہری قرب بھی مل جائے گا تو اللہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کے ظاہری اور باطنی دونوں قرب عطا فرمائے اور پھر صرف ہمیں ہی عطا نہ فرمائے بلکہ دنیا کے سب لوگوں کو عطا فرمائے۔کیونکہ سب لوگ ہمارے دادا حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ایک دادا کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔بلکہ وہ سب آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جماعت احمدیہ کی شاندار تبلیغی مساعی اور خالصہ سماچار امرتسر کے مفت روز و سکھ نے ۴ را پریل ۱۹۵۹ء کے مقالہ افتتاحیہ میں لکھا: - دو اخبار ”خالصہ سماچار سردار امرسنگھ جی دوسانجھ نے ایک مضمون میں یہ بیان کیا تھا کہ صرف احمدی مسلمانوں نے ہی کس طرح دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مبلغ بھیج کر اور مساجد قائم کر کے اپنے پاؤں مضبوط کر لئے ہیں۔امریکہ ایسے ملک میں ان کے ۱۸ تبلیغی مراکز قائم ہیں اور گولڈ کوسٹ افریقہ میں یہ تعداد ۲۴۷