تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 329
تاریخ احمدیت 329 دوسرے چوٹی کے ڈاکٹروں سے علاج کرایا گیا ابھی تک کوئی افاقہ نہیں ہوا۔اور اس وقت تک برابر اتنا درد ہے کہ میں نہ تو رات کو سو سکتا ہوں اور نہ دن کو آرام سے لیٹ سکتا ہوں۔اس لئے مجبور ہوں کہ آپ سے نہیں مل سکا۔اور اسی طرح میں نے آپ کے دل کو رنج پہنچایا ہے۔امید ہے کہ آپ لوگ اس کا ازالہ دعا سے کریں گے کیونکہ ہمارا اصل معالج خدا تعالیٰ ہی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں :- واذا مرضت فهو يشفين کہ جب میں اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل سے شفا دیتا ہے۔تو حقیقت یہی ہے کہ بیماریاں ہماری اپنی بیوقوفی سے آتی ہیں لیکن شفاء خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔ورنہ ڈاکٹر دیکھتے رہ جاتے ہیں اور انہیں پتہ ہی نہیں لگتا کہ کیا بیماری ہے۔مجھے بھی کل یہاں کے ایک چوٹی کے ڈاکٹر نے جن کی یورپ میں بھی شہرت ہے کہا ہم آپ کی مرض کا خاطر خواہ علاج نہیں کر سکتے کیونکہ عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کا جسم بیماری کا مقابلہ نہیں کرتا۔حالانکہ عمر کی زیادتی محض انسانی کم عقلی کا بہانہ ہے۔ورنہ ایک دفعہ گجرات کا ایک شخص میری بیعت کرنے کے لئے آیا۔تو اس نے مجھے بتایا کہ اس وقت میری عمر ۱۱۸ سال کی ہے اور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں جوان تھا۔تو انسان اپنی کوتاہی کی وجہ سے بہانے بناتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ حکیموں اور ڈاکٹروں کو عقل دے تو انہیں علاج سوجھ جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ انہیں عقل نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا کام تو محض قارورہ سونگھنا ہے ورنہ علاج تو اللہ تعالیٰ ہی سمجھاتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سرگودھا کا ایک رئیس میرے پاس آیا۔وہ اپنے آپ کو بہت بڑا رئیس سمجھتا تھا میں نے اسے بیماری کا معمولی سا علاج بتایا تو اس نے برا منایا اور سمجھا کہ گویا میں نے اس کی ہتک کی ہے۔پھر وہ غصہ سے کہنے لگا کہ آخر آپ لوگ پیشاب ہی سونگھنے والے ہیں۔تو حقیقت یہی ہے طبیب حقیقی خدا تعالیٰ ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ علم طب محض ظنی ہے اور طبیب کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مرض کیا جلد ۲۰