تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 328
تاریخ احمدیت 328 جلد ۲۰ منعقد ہوا۔حضور چونکہ بعارضہ نقرس بیمار تھے اس لئے اجلاس میں تو تشریف نہ لا سکے مگر ایک پر معارف پیغام مرحمت فرمایا جو ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ کر کے لے مارچ کو سنایا گیا یہ پیغام حسب ذیل الفاظ میں تھا۔اے احباب کراچی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔چونکہ میں اس دورہ میں بیماری سے دوچار رہا ہوں اس لئے یہاں کراچی آکر مجھے یہ موقعہ نہیں ملا کہ آپ لوگوں سے ملوں۔یا آپ لوگوں کو اپنے سے ملنے کا موقعہ دوں۔دوستوں نے خواہش کی ہے کہ میں ٹیپ ریکارڈ پر کچھ الفاظ کہوں اور وہ آپ کو سنا دیئے جائیں۔اب سب سے پہلے میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں کہ کراچی میں آنے کے باوجود آپ کو وہ ملاقات کا موقعہ نہیں ملا جو میزبان کو اپنے مہمان سے ملنے ملانے کا ملتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو میں پہلے ہی بیمار تھا۔پھر بشیر آباد واپسی پر مجھے کار کا ایک حادثہ پیش آیا جس کی خبر الفضل میں چھپ چکی ہے اس حادثہ سے پہلے تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ بس اب خاتمہ ہی ہے۔جو دوست میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ جب یکدم آپ کی موٹر گری تو ہمارا دل دہل گیا۔کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا۔مگر جب آپ کار سے باہر نکلے تو آپ کو دیکھ کر ہمیں تسلی ہو گئی کہ آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے صحیح وسلامت ہیں۔پہلے خیال تھا کہ نخاع کٹ گیا ہے لیکن ڈاکٹروں نے دیکھنے کے بعد بتایا کہ ایسا نہیں ہوا۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے لیکن میں کار سے باہر نکلا اور سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔ناصر آباد جا کر میرے دائیں پاؤں پر نقرس کا شدید حملہ ہوا لیکن علاج کی وجہ سے جلد ہی افاقہ ہو گیا۔پہلے دن تو چار پائی کے ساتھ ہی پاٹ رکھنا پڑتا تھا لیکن دوسرے تیسرے دن میں دوسرے کمرہ میں پاٹ کے پاس چلا جاتا تھا۔پھر ایک دن ہم باغ میں سیر کے لئے بھی گئے۔لیکن جب ہم محمود آباد گئے تو چونکہ وہاں کی آب و ہوا میں رطوبت زیادہ تھی اس لئے وہاں مجھ پر نقرس کا دوبارہ حملہ ہوا جو برابر ریل میں بھی کراچی پہنچنے تک جاری رہا۔یہاں پہنچ کر باوجود اس کے کہ جماعت کے ڈاکٹروں اور شہر کے