تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 327 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 327

تاریخ احمدیت 327 اس کے بعد خاکسار نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام جو آپ نے اس جلسہ کے لئے تحریر فرمایا تھا پڑھ کر سنایا۔آخر میں مکرم مولوی غلام باری صاحب سیف نے دعا کروائی اور دعا کے بعد ہمارا یہ اجلاس برخاست ہوا۔جلد ۲۰ سیدنا حضرت مصلح موعود اس سال دو بار سندھ حضرت مصلح موعود کا سفر سندھ تشریف لے گئے۔ا حضور مع افراد بیت ۲۱ فروری ۱۹۵۹ ء کو بذریعہ کار روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ میاں غلام محمد صاحب اختر ناظر اعلی ثانی ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری و محکمہ حفاظت کے اصحاب تھے۔حضور نے لاہور پہنچ کر گلبرگ کوٹھی کی بنیاد رکھی اور پھر بذریعہ تیز گام بشیر آباد پہنچے اور پھر ناصر آباد اسٹیٹ آگئے۔ٹنڈوالہ یار سے میر پور خاص جاتے ہوئے حضور کی کار کو حادثہ پیش آیا اور حضور کی پشت مبارک پر ضرب شدید پہنچی جس نے پوری جماعت میں زبر دست تشویش و اضطراب کی لہر پیدا کر دی۔صدقات دیئے گئے اور خصوصی دعائیں ہوئیں۔٢ / مارچ کو حضور محمود آباد اسٹیٹ سے روانہ ہوکر ۳ / مارچ کو کراچی پہنچے جہاں قریباً ایک ہفتہ تک اپنی کوٹھی بیت الفضل میں قیام فرما رہنے کے بعد اار مارچ کو بذریعہ چناب ایکسپریس ربوہ تشریف لائے۔درد نقرس کی تکلیف اور نا سازی طبع کے باعث حضور اس حال میں گاڑی سے اترے کہ حضور کرسی پر بیٹھے تھے اور خاندان حضرت مسیح موعود کے بعض افراد بعض دیگر مخلصین نے کرسی کو نہایت احتیاط کے ساتھ ہاتھوں میں سنبھالا ہوا تھا۔۲- اس کے بعد حضور کو بغرض علاج دوبارہ اس سال کراچی جانا پڑا۔حضور ۲۱ راگست کو بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے اور ۳ / ستمبر کو ربوہ میں رونق افروز ہوئے۔۲۰ ان دونوں سفروں میں احباب جماعت نے حسب سابق اپنے مقدس آقا سے والہانہ محبت و شیفتگی کا ثبوت دیا اور ہر جگہ پر تپاک خیر مقدم کے ایمان افروز نظارے دیکھنے میں آئے مگر افسوس حضور کی ناسازی طبع اور شدید علالت کے باعث ان سفروں کے درمیان غم واندوہ کی ایسی فضا قائم رہی جس نے عشاق خلافت کو تڑپا دیا۔حضرت مصلح موعود کا پیغام مجلس انصار اللہ کراچی کے نام حضور کے قیام کراچی کے دوران ۷، ۸ مارچ ۱۹۵۹ء کو مجلس انصاراللہ کراچی کا پہلا سالانہ اجتماع صدرانجمن احمدیہ کی ملکیتی عمارت دارالصدر میں