تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 318
تاریخ احمدیت 318 جلد ۲۰ اسی روز (۸/فروری ۱۹۵۹ء کو ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک خصوصی پیغام مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گولبازار ربوہ کے زیر انتظام سیرت رفقاء پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔یہ جلسہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی زیر صدارت ہوا اور اس میں مندرجہ ذیل بزرگانِ سلسلہ کی سیرت اور کارناموں پر تقریریں ہوئیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل ، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الاسدی ، حضرت میر سید محمد اسحاق صاحب۔ان تقاریر سے قبل چوہدری عبدالعزیز صاحب ڈوگر زعیم مجلس نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا مندرجہ ذیل خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا : - مجھے معلوم ہوا ہے کہ خدام الاحمدیہ گولبازار ربوه ۸/فروری ۱۹۵۹ء کو ایک جلسہ منعقد کر رہے ہیں جس کی غرض و غایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چار رفقاء کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا ہے یہ چار رفیق یہ ہیں۔(۱) حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب (۲) حضرت مفتی محمد صادق صاحب (۳) حضرت میر محمد الحق صاحب (۴) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفاتی۔اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ چاروں بزرگ جماعت احمدیہ کے بہت ممتاز رکن تھے اور انہوں نے سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بہت اچھا موقعہ پایا۔حضرت مولوی عبداللطیف صاحب شہید تو گویا مجسم خدمت تھے کیونکہ انہوں نے اپنے خون سے احمدیت کے پودے کو سینچا اور سرزمین کابل میں ایک نہایت مبارک بیج کا کام دیا جو دن بدن پھولتا اور پھلتا چلا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی بے حد تعریف فرمائی ہے بلکہ ان کے بالوں کو یادگار اور تبرک کے طور پر سالہا سال تک اپنے بیت الدعا میں لگائے رکھا۔اور اب یہ بال میرے پاس محفوظ ہیں۔انہوں نے صداقت کی خاطر سنگساری جیسی ہیبت ناک سزا کو اس طرح ہنستے ہوئے برداشت کیا گویا ایک شخص پھولوں کی سیج پر لیٹا ہوا ہے لا ریب ان کا نمونہ قربانی کے میدان میں جماعت کے نوجوانوں کے لئے ایک نہایت مبارک نمونہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ہ پیچھے آیا اور بہتوں سے آگے نکل گیا۔