تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 315
تاریخ احمدیت 315 جلد ۲۰ ۸ فروری ۱۹۵۹ء کو لائکپور (فیصل آباد ) کے حضرت مصلح موعود کا پر معارف کالجیٹ طلباء کا ایک گروپ مرکز احمدیت خطاب لائکپور کے کالجیٹ طلباء سے میں پہنچا یہ طلباء صدرانجمن احمدیہ اور ٹریک جدید کے مرکزی دفاتر اور ربوہ کے تعلیمی ادارے دیکھنے کے بعد سوا گیارہ بجے صبح کے قریب حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔دوران ملاقات حضور نے ان سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : - آپ لوگ طالب علم ہیں۔آپ جس زمانے میں سے گزر رہے ہیں یہ ایک ایسا زمانہ ہے جس میں آئندہ زندگی کی بنیاد پڑتی ہے۔اس زمانے کی اہمیت اور قدروقیمت کو سمجھنا اور اس کے مطابق اپنے اعمال وکردار کو بنانا نہایت ضروری ہے کیونکہ اسی پر آئندہ ترقی کا تمام دارو مدار ہے بلکہ اگر آپ لوگ دیکھیں اور غور کریں تو آئندہ زندگی کی بنیاد بچپن سے ہی پڑنی شروع ہو جاتی ہے اگر بچپن میں نیک عادتیں ڈالی جائیں تو بڑے ہونے پر وہی عادتیں راسخ ہو کر انسان کو نیکی طرف مائل کرنے کا موجب بن جاتی ہیں اور اس طرح اس کی زندگی سنور جاتی ہے۔برخلاف اس کے اگر بچپن سے ہی بری عادتیں پڑ جائیں تو بڑے ہو کر ان عادتوں کا ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو عادتیں چھوٹی عمر میں گھر کر لیں وہ بعد میں مشکل ہی سے جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بچے کی تربیت کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے کہ جب وہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ حکم ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے پہلے لوگ اس بات کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنے سے قاصر تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ بچے کے کان میں اذان وغیرہ دینا بے معنی ہے لیکن اب سائیکولوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ سب سے پہلے بچے کے کان کام کرنے لگتے ہیں۔سونو زائیدہ بچے کے کان میں اذان کہنے سے شریعت کی غرض یہ تھی کہ جب پہلے روز ہی یہ الفاظ بچے کے کانوں میں ڈالے جائیں گے تو ان الفاظ کا احترام ہمیشہ اس کے دل میں قائم رہے گا کیونکہ بڑا ہونے کے بعد جب بھی اسے یہ بتایا جائے گا کہ تیرے