تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 310
تاریخ احمدیت 310 جلد ۲۰ کہ وہ جو کام بھی کرے بنی نوع انسان کی خدمت کی نیت سے کرے اور مقصد اس کا یہی ہو کہ وہ مخلوق خدا کی خدمت کا فریضہ ادا کرنے کے قابل بن سکے۔اگر اس نیت اور ارادے سے کھیلوں میں حصہ لیا جائے تو کھیل بھی دین کا حصہ بن جاتے ہیں۔ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی کھیل کراتے بھی تھے اور اس میں حصہ بھی لیتے تھے۔پس ایسے کھیل ہماری دینی روایات میں شامل ہیں۔کھیلوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان میں گو مقابلہ ہوتا ہے تاہم مخالفت نہیں ہوتی۔دونوں میں سے ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسرے سے آگے بڑھ جائے اگر اس طور سے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی کہ جس میں مخالفت کی بجائے مقابلے اور مسابقت کی روح پائی جاتی ہو تو یہ بھی دین ہی ہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاستبقوا الخيرات (البقرة : ۱۴۹) کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔کھیل کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو قواعد کا پابند بناتا ہے۔قواعد کی پابندی کو انسان کی تربیت میں بہت اہمیت حاصل ہے۔انسان اپنے آپ کو قواعد کا پابند بنائے بغیر اعلیٰ کردار کا مالک نہیں بن سکتا زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی اور ترقی کے لئے قواعد کی پابندی ضروری ہے ان سے آزاد ہو کر صحیح لائنوں پر ترقی کرنا ممکن نہیں۔کھیل کا تیسرا اور اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطی تسلیم کرنے اور صحیح راہ اختیار کرنے کا خوگر بناتا ہے۔کھیل میں ہر کھلاڑی بہر صورت ریفری کے فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان جس کو بڑا لتسلیم کرے اس کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپنی غلطی بلا تامل ماننے اور پھر اصلاح کی طرف مائل ہونے کا خوگر بنائے۔یوں تو کھیلوں کے اور بہت سے فائدے ہیں لیکن اگر ان تین باتوں کو ہی ہر کھلاڑی اپنے سامنے رکھے اور زندگی کے ہر شعبے اور کام میں ان پر عمل پیرا ہونے کی مشق کرتا رہے تو وہ اپنے حلقے میں (خواہ وہ حلقہ اسکول یا کالج یا کوئی محکمہ اور ادارہ ہو ) دوسروں کے لئے اثباتی رنگ کی ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ سب نے ٹورنا منٹ میں اسی روح اور جذبے کے ساتھ حصہ لیا ہے اور آپ سب اسی روح اور جذ بہ کو تازہ کر کے یہاں سے لوٹیں گے۔اس مختصر لیکن حقیقت افروز خطاب کے بعد حضرت چوہدری صاحب نے ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم فرمائے۔اس مثالی ٹورنامنٹ کی ابتداء حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام