تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 309 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 309

تاریخ احمدیت 309 جلد ۲۰ خدمات کے ذریعہ ثابت کر دکھا ئیں کہ آپ کھیل کے میدان میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے میدان کے شہسوار ہیں تا کہ آپ کا نام آپ کے کارناموں کی وجہ سے قیامت تک روشن رہے۔پھر میرے نزدیک کھیلوں میں سے باسکٹ بال کے کھیل کو ایک خصوصیت حاصل ہے اور یہ کہ کھیل کے دوران میں اس میں متبادل کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔یہ خصوصیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اور کوئی ذات ایسی نہیں جس کے بغیر گزارہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا بدل پیدا کیا۔صرف اور صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا کوئی بدل اور قائم مقام نہیں اور وہ ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی ہے اور وہ ہے خدا کی ذات۔باقی سب فانی ہیں۔آج ہیں تو کل نہیں ان کا بدل اور قائم مقام دنیا میں ہو سکتا ہے کھیلوں میں سے یہ سبق ہمیں صرف باسکٹ بال کے کھیل ہی سے ملتا ہے ان الفاظ کے ساتھ میں تمام کھلاڑیوں کو جو پاکستان کے مختلف شہروں سے یہاں آکر جمع ہوئے ہیں خوش آمدید کہتے ہوئے ٹورنامنٹ کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں۔ابھی چونکہ ہمارے ملک میں کھیلوں کا رواج عام نہیں اور انہیں مقبول بنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ بڑے بڑے شہروں کے نامور کھلاڑی اور ان کی مشہور ٹیمیں گاہے گاہے ملک کے ایسے حصوں میں جہاں ابھی کھیلوں کا زیادہ چرچا نہیں جمع ہوں اور اپنے اعلیٰ کھیل کا مظاہرہ کر کے کھیلوں کو ملک کے ہر حصے اور ہر کونے میں مقبول بنا ئیں۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹورنامنٹ اپنے اندر ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے اختتامی خطاب کا ملخص یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کے ہر عمل کی قدر و قیمت کا مدار اس کی نیت پر ہوتا ہے۔اس لحاظ سے مومن کا ہر کام گو وہ بظاہر دنیا سے تعلق رکھتا ہو دین کا حصہ بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے دو بنیادی شرائط ہیں۔اول یہ کہ وہ کام موقعہ اور محل کے مناسب ہو۔دوسرے نیت نیک ہو۔نیت کی نیکی کا ارفع و اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو مد نظر رکھے اور اسی کو اپنا منتہی مقصود بنائے۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا سے مراد یہ ہے