تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 308 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 308

تاریخ احمدیت 308 کے لئے ضروری ہے کہ ہم پوری دیانتداری سے اپنی اہلیت کا مظاہرہ کر کے اپنے آپ کو اس کے حصول کا مستحق ثابت کریں جس طرح کھیل میں ہمارے کردار کا جائزہ لینے کے لئے ریفری مقرر ہوتے ہیں اسی طرح زندگی کے کھیل میں بھی سب سے بڑا ریفری ہر آن ہماری نگرانی کرنے اور ہم کو ہمارے کیسے کا بدلہ دینے کے لئے موجود ہے اور وہ ہم سب کو پیدا کرنے والا یعنی ہمارا خدا ہے اگر ہم کھیل سے یہ ایک سبق حاصل کر کے اس کی مقتضیات پر پورا اترنے کا عزم کر لیں تو ہماری اخلاقی تربیت کے لئے یہ کافی اور بسا کافی ہے۔ذہنی تربیت کے اعتبار سے کھیلوں کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ ان کی مدد سے انسان میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس طرح ہر کھلاڑی کے لئے ضروری ہے کہ وہ جیتنے کے لئے اپنی توجہ کو تمام تر کھیل ہی میں مصروف رکھے اسی طرح زندگی کے ہر میدان اور ہر شعبہ میں انسان کے لئے لازمی ہے کہ وہ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کرے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی کی امید عبث ہے۔کھیلیں جسمانی قوتوں کے باہمی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔اور ان قوتوں کی متوازن کیفیت ہی صحت کہلاتی ہے۔اس طرح خود کھیلوں میں بھی توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔یعنی نہ انسان انہی کا ہو رہے اور نہ ان سے بکلی اجتناب اختیار کرے بلکہ مناسب حد تک ان میں حصہ لے کر بھی کردار سازی کا ایک ذریعہ بنائے۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی بقاء اور اس کے ارتقاء کا مدار توازن پر رکھا ہے اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وضع الميزان (الرحمن : ۸) یعنی ہر چیز میں توازن کی کیفیت رکھی گئی ہے۔۔اخلاقی ، ذہنی اور جسمانی تربیت کے لحاظ سے کھیلوں کی اہمیت بھی مسلم ہے۔آپ اس تربیت کو صرف کھیل تک محدود نہ سمجھیں بلکہ جس طرح کھیل کے میدان میں آپ آگے نکلنے اور سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح آپ زندگی کے میدان میں بھی آگے نکلنے اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے سر توڑ جد و جہد کریں اور قوم و ملک کے لئے اپنی جلد ۲۰