تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 296
تاریخ احمدیت 296 جلد ۲۰ رسالہ سلسلہ احمدیہ بصورت ٹریکٹ تقسیم کیا گیا۔ساری تقاریر پہلی بار ٹیپ ریکارڈ کی گئیں۔" یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اس سال ملک میں مارشل لاء اور کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے انڈونیشیا کے اکثر مبلغین اپنی جگہوں پر محصور رہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بغاوت کے باعث جنگ جاری تھی اس کا تبلیغی سرگرمیوں پر بہت اثر پڑا۔تا ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ۲۶۱ افراد سلسلہ حقہ میں شامل ہوئے اور مندرجہ ذیل پانچ مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔تلوک بتونگ (TELUK BETUNG) ، رفلکس بتونگ (RANGKAS BETUNG)، چلگوں (CHILGGON)، کبو میں ، سالا تیگا (SALATIGA) ۱۹۵۸ء میں مشرقی جاوا کے صدر مقام سورا با ئیا (SURA BAYA) اور مغربی جاوا کے مشہور شہر چری بون (CHIRE BON) میں دو عظیم الشان بیوت الذکر تعمیر کی گئیں اول الذکر کی تعمیر میں ڈاکٹر عبدالغفور صاحب کی انتھک مساعی کا بھاری دخل تھا اور ثانی الذکر کی تعمیر جماعت احمدیہ مانس لور (MANISLOR) کے متواتر وقار عمل کے ذریعہ ہوئی۔اور انہوں نے معماروں اور مزدوروں کا کام بھی خود انجام دیا۔دوران سال انڈونیشیا مشن نے 11 مختلف علمی تربیتی و تبلیغی مضامین پر مشتمل ٹریکٹ شائع کئے۔ہر ٹریکٹ اوسطاً ۱۶ صفحات کا تھا۔مجاہدین احمدیت کی آمد و روانگی ۱۹۵۸ء میں درج ذیل مجاہدین احمدیت فریضہ اعلائے کلمۃ اللہ کی بجا آوری کے لئے ربوہ سے ۲۰۴ مختلف بیرونی ممالک میں تشریف لے گئے۔۱- عبدالعزیز جمن بخش صاحب ۸/ جنوری (برائے ڈچ گی آنا ) ۲ - مولوی محمد بشیر صاحب شاد ۲۱ فروری (برائے سیرالیون ) ۳ - مولوی محمد اسحاق صاحب خلیل ۲۱ فروری ( برائے سیرالیون ) ۵ اپریل ( برائے سیرالیون ) -۴- سید احمد شاہ صاحب ۵- قریشی محمد افضل صاحب ۶ - مولوی عبد القادر صاحب ضیغم ے۔ملک عزیز احمد صاحب ۸- سید شاہ محمد صاحب رئيس التبليغ ٫۵اپریل ( برائے سیرالیون ) ۴ رمئی (برائے امریکہ) ۲۱ رمئی (برائے انڈونیشیا) ۲۴ / جون (برائے انڈونیشیا) ۹۔مسٹر بشیر احمد آرچرڈ صاحب ۲۵ / جون (برائے ٹرینیڈاڈ ) ۱۰ مولوی مبارک احمد صاحب ساقی ۶ ستمبر (برائے سیرالیون ) ۲۰۵