تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 295 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 295

تاریخ احمدیت 295 جلد ۲۰ کانفرنس کا افتتاح کانفرنس کمیٹی اور جماعت گاروت کے صدر جناب بیٹی صاحب نے کیا جس کے بعد سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے حضرت مصلح موعود کے گزشتہ سالوں کے پیغامات سے بعض اقتباسات سنائے جن سے سامعین کے اندر ایک نئی روح اور ولولہ پیدا ہوا۔دوسرے روز جناب آؤنگ حمید صاحب (جنرل سیکرٹری ) نے گزشتہ سال کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری ۱۹۵۷ء سے جون ۱۹۵۸ء تک جماعت کی تعداد میں تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد کا اضافہ ہوا۔رپورٹ کے بعد سید شاہ محمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کا حسب ذیل تازہ برقی پیغام پڑھ کر سنایا۔( ترجمہ ) مری ۱۶؍ جولائی ۱۹۵۸ء۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته میں انڈونیشیا کے احمدی مردوں اور عورتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوا خدا تعالیٰ کے حضور ان کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا ورنہ اس وقت تک جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہوتی۔میں یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے طریقہ کار میں اصلاح کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ اور مخلوق کے سچے خادم ثابت کریں گے۔خدا تعالیٰ آپ کے ملک کو برکت دے اور اس کی ہمیشہ صحیح راستے کی طرف راہنمائی کرتا رہے۔(خلیفہ اسیح الثانی) اس مختصر مگر مؤثر پیغام نے مخلصین جماعت پر رقت کا عالم طاری کر دیا۔پیغام پڑھنے کے بعد سید شاہ محمد صاحب نے کہا یہ مختصر پیغام اپنی تفصیل آپ ہے۔میں صرف یہی کہتا ہوں کہ اللہ کا نام لے کر حضور کے پیغام کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے عملی جدوجہد شروع کر دیں۔جلسہ کے آخری اجلاس سے مولوی امام الدین صاحب، مولوی محمد زہدی صاحب، ملک عزیز احمد صاحب اور بعض دوسرے احباب نے تقاریر فرما ئیں۔کانفرنس میں یہ ریزولیوشن بھی پاس کیا گیا کہ یہ کانفرنس اپنے محبوب آقا کی خدمت میں عاجزانہ درخواست کرتی ہے کہ حضور اپنی تشریف آوری سے اس ملک کو برکت بخشیں۔اس سال پہلی مرتبہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع کا نفرنس سے قبل ہوا اور جماعت کی دوسری ذیلی تنظیموں کے اجلاس کا نفرنس کے ایام میں ہوئے۔کانفرنس کے تیسرے روز مڈل سکول کے ہال میں ایک کامیاب تبلیغی جلسہ ہوا۔ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔غیر از جماعت دوستوں نے بھی تسلیم کیا کہ سب تقاریر اہم اور معلومات سے پر تھیں۔جلسہ میں کتاب ”پیغام احمدیت“ اور