تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 294 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 294

تاریخ احمدیت 294 جلد ۲۰ خلاف حملے کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔یوگنڈا میں ایسے چیفس پہلے ہی بہت کم ہیں کہ جنہیں چرچ کا سرگرم رکن شمار کیا جا سکے اس کے نتیجے “ میں یوگنڈا میں چرچ کی آمد میں بہت کمی واقع ہوگئی ہے۔یہ ہے وہ بیان جو یوگنڈا کے بشپ رائٹ ریورنڈ یسلی براؤن نے جنوری ۱۹۵۸ء کو نامی ریمیے کیتھڈرل میں اینگلیکن چرچ کی علاقائی کانفرنس میں دیا۔“ حکومت کی طرف سے زائد مالی امداد کی پیشکش کے باوجود مینگوسی ایم۔الیس ہسپتال داخل ہونے والے مریضوں کے لئے موجودہ گنجائش میں دو تہائی کمی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔اسی طرح وہ عام طبی خدمات اور نرسوں کی تربیت کے کام سے بھی دستبردار ہو رہا ہے۔اس امر کا اعلان یوگنڈا کی علاقائی کانفرنس میں ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آرلنگٹن نے کیا۔اس مشن کے انچارج مشنری مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر سات سالہ خدمات کے بعد سیلون اپریل ۱۹۵۸ء میں عازم ربوہ ہوئے اور مشن کا چارج قریشی عبدالرحمن صاحب شاہد نے سنبھالا۔مشرقی صوبہ مشن کے مقامی مبلغ مولوی محمد شمیم صاحب تھے جنہوں نے ایک ہزار میل سے زائد سفر پیدل، بس اور گاڑی کے ذریعہ کیا اور مختلف علاقوں تک سلسلہ کا لٹریچر پہنچایا۔حکومتِ سیلون نے گذشتہ سال میلادالنبی کی رخصت نہ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر جماعت احمد یہ سیلون نے سب سے پہلے ریزولیوشن پاس کیا جو اخبار سیلیون ڈیلی نیوز میں شائع ہوا۔بعد ازاں حکومت نے یوم میلاد کی تعطیل کا اعلان کر دیا۔اس سال کولمبو سے ۸۲ میل دور ایک شہر میں نئی جماعت قائم ہوئی۔مشن کی طرف سے ایک کتاب ” مسلمان کون ہے“ شائع ہوئی جو مشرقی صوبہ کے ایک اہل حدیث عالم کی کتاب کے جواب میں مولوی محمد شمیم صاحب نے لکھی اور کتاب مذکور کے اعتراضوں کے مدلل جوابات دیئے۔یہ کتاب اس علاقہ میں ایک ہزار کی تعداد میں مفت تقسیم کی گئی۔۲۰۳ انڈونیشیا جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی نویں سالانہ کانفرنس مغربی جاوا کے شہر گا روت میں ۱۸، ۱۹ ، ۲۰ جولائی ۱۹۵۸ء کو کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی جس کی خبریں مرکزی ریڈیو اور پریس میں بھی آئیں۔