تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 293 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 293

تاریخ احمدیت 293 گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں برطانوی وزیر نو آبادیات سرکاری دورے پر یوگنڈا آئے اور انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس پریس کانفرنس میں جماعت احمدیہ کے اخبار ” وائس آف اسلام کے ایڈیٹر ( حکیم محمد ابراہیم صاحب مبلغ ( دینِ حق ) یوگنڈا ) نے وزیر موصوف کی توجہ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کی طرف مبذول کراتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ یوگنڈا کے مسلمانوں کی اس بارے میں مدد کریں۔وزیر موصوف اس سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں یوگنڈا کے مسلمانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کا وعدہ کیا۔چنانچہ بعد میں انہوں نے اپنے تعلیمی مشیر سرکرسٹوفر کا کس کو اس غرض سے یوگنڈا بھجوایا کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔سر کرسٹوفر یوگنڈا آئے۔سارے معاملے کی تحقیقات کی اور واپس جا کر انہوں نے وزیر نو آبادیات کو اپنی رپورٹ میں مطلع کیا کہ یوگنڈا ہی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں افریقی مسلمانوں کا کافی اثر ہے۔نیز انہوں نے وہاں ایک اسلامی ادارہ قائم کرنے کی سفارش کی۔“ 66 اخبار یوگنڈا آرگس‘ مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۵۸ء) وو مذکورہ بالا انگریزی روزنامہ نے ایک اور نوٹ FAILURE OF CHRISTIANITY IN UGANDA یوگنڈا مشرقی افریقہ میں عیسائیت کی ناکامی کے عنوان سے شائع کیا ہے جس کے بعض اقتباسات درج ذیل ہیں :- ” مجھے یوگنڈا کے ایک نہایت ذمہ دار باشندے نے بتایا ہے کہ جو نہی یہاں حکومت خود اختیاری کا قیام عمل میں آجائے گا تو لوگ اس خیال کے پیش نظر کہ چرچ ایک غیر ملکی ادارہ ہے اور شادی کے ایک ایسے نظریہ کا حامل ہے جو اہل یوگنڈا کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔چرچ کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔میں نہیں جانتا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ گزشتہ دو سال سے یوگنڈا میں قدیم عقائد کی طرف عود کرنے کا میلان بڑھ رہا ہے اور شادی کے مسیحی نظریات اور بالعموم خود مسیحیت کے جلد ۲۰