تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 14
تاریخ احمدیت 14 چند دنوں کی بات ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت اتر نے والی ہے اب یہ ناممکن بات ہے کہ زیادہ عرصہ تک آسمان اپنی مدد کو روکے رکھے کوئی ۲۵ ، ۲۶ سال تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دشمنوں کی گالیاں سنیں ، ان سے پتھر کھائے، اینٹیں کھا ئیں، ماریں کھائیں ، لیکن تبلیغ جاری رکھی اس کے بعد قریباً پچاس سال تک یہ کام ہم نے کیا۔یہ سارا زمانہ مل کر ۷۵ سال کا ہو جاتا ہے آخر اللہ تعالیٰ ایسا تو نہیں کہ ۷۵ سال تک ایک قوم کو گالیاں دلوائے ، ماریں کھلائے ، پتھر مروائے اور پھر چپ کر کے بیٹھا رہے اب میں سمجھتا ہوں بلکہ مجھے یقین ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آسمان سے اترے گئی۔(خطبہ ارجنوری ۱۹۵۸ء) ۳۔میں نے اپنے پچھلے خطبے میں بتایا تھا کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے کہا ہے کہ ٹھٹھہ میں میری کچھ زمین ہے میں اس زمین میں سے دس ایکڑ تبلیغ کے لئے وقف کر دوں گا مگر یہ میری غلطی تھی۔چودھری صاحب نے بتایا ہے کہ ٹھٹھہ کی زمین ابھی پوری طرح ان کے قبضہ میں نہیں آئی دوسرے وہ زمین ایسی جگہ ہے جو ایک طرف ہے اور وہاں آبادی کم ہے اسلئے وہاں کسی مبلغ کا رہنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ میرا مطلب یہ تھا که لامینی ( ضلع حیدر آباد) میں جو میری زمین ہے اس میں سے دس ایکڑ اس غرض کے لئے وقف کر دوں گا۔میرا بھی منشاء ہے کہ میں بھی اپنی زمین میں سے کسی جگہ دس ایکڑ اس غرض کے لئے وقف کروں اس طرح دو وقف ہو جاتے ہیں۔ایک باندھی (سندھ) کے رئیس حاجی عبدالرحمن صاحب ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ میری زمین میرے غیر احمدی رشتہ داروں سے مشترک ہے اس کو میں تقسیم نہیں کر سکتا مگر میں یہ کر دوں گا کہ دس ایکڑ زمین خود خرید کر دے دوں۔اس طرح تین وقف ہو گئے پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ میرے پاس دو مربعہ زمین ہے اس میں سے جتنی زمین کی ضرورت ہو میں دینے کے لئے تیار ہوں ایک اور دوست نے لکھا ہے کہ مجھے فوجی خدمات کی وجہ سے ایک مربع زمین ملی ہے میں وہ زمین اس غرض کے لئے وقف کرتا ہوں اس کو تو میں نے لکھا ہے کہ میں اس طرح ساری زمین لینے اور تمہیں جلد ۲۰